Free AIOU Solved Assignment Code 6509 Spring 2021

online universities in usa > College Scholarships > Scholarship Application Strategies > Apply for Scholarships

Free AIOU Solved Assignment Code 6509 Spring 2021

Download Aiou solved assignment 2021 free autumn/spring, aiou updates solved assignments. Get free AIOU All Level Assignment from aiousolvedassignment.

Course: Tadreese Urdu (6509)
Semester: Spring, 2021
ASSIGNMENT No. 1

online universities in usa > College Scholarships > Scholarship Application Strategies > Apply for Scholarships

زبان کی تدریس کی چار بنیادی مہارتیں ہیں۔ جو بتدریج سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں۔ یعنی سب سے پہلے سننا، پھر بولنا، پھر پڑھنا اور پھر لکھنا۔ ان میں سے دو مہارتیں ان پٹ کی حیثیت رکھتی ہیں اور دو آؤٹ پٹ کی۔ سننا اور پڑھنا ان پٹ ہیں اور بولنا اور لکھنا آؤٹ پٹ۔ اب ان میں سے پہلی مہارت یعنی سننے کے عمل کا آغاز فطری طور پر ماں کے پیٹ سے ہی ہو جاتا ہے۔ اور بولنا بھی بچہ سماجی زندگی کے ابتدائی چند سالوں میں سیکھ لیتا ہے لیکن یہ سننا اور بولنا دونوں اس کی مادری زبان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اردو کا معاملہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت کی مادری زبان نہیں ہے لیکن ہر پاکستانی کی دوسری زبان یعنی سیکنڈری لینگویج ضرور ہے۔ اگر کسی ماحول میں اردو بولنے والا کوئی ایک فرد بھی موجود نہ ہو، تب بھی ذرائع ابلاغ، ریڈیو، ٹیلی وژن، گانوں، گیتوں اور قوالیوں کے ذریعے اردو کے الفاظ اور لب و لہجے سے واقفیت پیدا ہو ہی جاتی ہے۔

اسکول میں رسمی تعلیم کے ذریعے اس ابتدائی واقفیت کی پرورش و نمو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نصاب میں ان دونوں بنیادی مہارتوں یعنی سننے اور بولنے کی تربیت کا مناسب یا ضروری اہتمام نہیں ملتا۔ ہم ابتدائی جماعتوں سے دیکھتے ہیں کہ سارا زور پڑھنے اور لکھنے پردیا جاتا ہے۔ سننے اور سن کر درست معنی اخذ کرنے اور اسے یاد رکھنے کی مشق اگر ہو بھی تو اتنی معمولی ہوتی ہے کہ خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ یونی ورسٹیوں میں بھی طلبہ کی ؛لیکچرسن کر سمجھنے اور اسے یادداشت میں محفوظ کر لینے کی صلاحیت انتہائی محدود ہوتی ہے۔ اس کی توجہ کا مرکز بار بار بدل جاتا ہے اور وہ اگلے جملوں کو پچھلے جملوں سے مربوط کر کے کلام کے مجموعی معانی سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے۔

اب سے چالیس پچاس برس پہلے یہ صورت حال نہیں تھی اور ابتدائی جماعتوں میں ان دونوں مہارتوں کی تربیت کے لیے انتہائی سادہ اور نتیجہ خیز مشقیں عام تھیں۔ مثلا ًہر نیا سبق استاد پہلے خود اور بعد میں مانیٹر کے ذریعے بچوں سے بار بار بآواز بلند کہلواتا تھا۔ استاد ایک سطر پڑھتا تھا، بچے اس کے بعد مل کر باجماعت اس سطر کو دہراتے تھے اور یوں نہ صرف استاد کی، بلکہ خود اپنی بھی،آوازسن کر تلفظ، لب و لہجہ اور ادائیگی کی مشق کر لیتے تھے۔ اب اس مشق کو فرسودہ طریقہ سمجھ کر ترک کر دیا گیا ہے۔ استاد بمشکل ایک بار بچوں کے سامنے سبق کی قرات کرتا ہے اور چند بچوں سے منتخب اقتباسات کی قرات کرواتا ہے۔ اس سے ایک تو سب بچوں کو قرات کا موقع نہیں ملتا جس سے ان کی آموزش نہیں ہوتی اور دوسرے ان کی دلچسپی بھی سبق میں نہیں رہتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ لمبی گفتگو سن کر اس سے معانی اخذ کرنا اور انھیں دوبارہ بیان کرنے کے قابل ہونا اب جامعات کے طلبہ کے لیے بھی آسان نہیں رہا۔اسی طرح مارننگ اسمبلی کے نام سے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی سرگرمی میں بچے مل کر کوئی دعا، نغمہ یا ترانہ پڑھتے تھے اور اس سے بھی ان کے اعضاے نطق کی مناسب ورزش ہو جاتی تھی۔ اب کہیں دہشت گردی کے ڈر اور کہیں عمارتوں کی تنگی کے باعث یہ رسم بھی متروک ہوتی جارہی ہے اور صبح صبح ایک گیت گا کر بچوں کے ذہن میں جو تازگی پیدا ہوتی تھی وہ مفقود ہوتی جا رہی ہے۔

پڑھنے اور لکھنے کی مہارتوں کی تربیت کے لیے نصاب کو اس طور پر تشکیل دیا جائے کہ اخلاقی، دینی اور تہذیبی مقاصد بھی بے شک پیش نظر رہیں لیکن ان کی نوعیت ضمنی رہے۔ اردو کا نصاب مرتب کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اصل مقصد زبان کی تدریس ہے۔ اس مقصد کے لیے نصاب کو نہایت ذہانت اور فن کارانہ حس تناسب کے استعمال سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ نصاب اس طرح وضع کیا جائے کہ اس کے نتیجے میں ترتیب دی جانے والی نصابی کتب مطلوبہ نتائج پیدا کرنے کی پابند ہو جائیں یعنی اس میں مقاصد اور طریق کار کے متعلق واضح ہدایات درج ہوں۔ مثلاً یہ کہ پڑھ کر عبارت کی درست تفہیم کے لیے جو تحریری ٹکڑے منتخب کیے جاتے ہیں ان میں بچوں کی عمر، ذوق، استعداد اور دلچسپی کو تو مد نظر رکھا ہی جاتا ہے لیکن زبان کی چاشنی اور اثر انگیزی کے پہلو کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے اور تفہیم کے ساتھ ساتھ تحسین کے عمل کو جزو ِ نصاب بنایا جائے۔غیر ضروری طوالت اور پھسپھسی، بے جان عبارتوں سے گریز کر کے، اردو کے نئے پرانے عظیم اور معتبر انشا پردازوں کی تحریروں کے ٹکڑے پیش کیے جائیں جن کے معنوی اور فنی پہلوؤں کی تفہیم و تحسین اساتذہ کے ذریعے کروائی جائے اور اس مقصد کے لیے خود اساتذہ کو بھی نہایت واضح ہدایات دی جائیں۔ نیز اس بات پر بھی زور دیا جائے کہ بچے عبارت کو پڑھ کر اس کے مرکزی نکتے یا نکات کو سمجھ لیں اور پھر اسے اپنے الفاظ میں بیان بھی کر سکیں۔ ابتدا میں طویل عبارتوں کے بجائے مختصر اقتباسات کے ذریعے مشق کروانا اہم ہوتا ہے جس میں بیک وقت بہت سی باتوں کے بجائے ایک ہی مرکزی خیال تک پہنچناکافی ہو۔

لکھنے کی مہارت کی تربیت کے لیے مشق کا آغاز خوش خطی اور پھر املا سے ہونا چاہیے۔ پہلے حروف کی درست نشست اور ان کے جوڑ واضح کرنا ضروری ہیں۔ اس مشق کے لیے خاطر خواہ وقت مخصوص کرنا ضروری ہے۔ بار بار کی جانے والی مشق سے ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے زمانے میں تختیوں اور قلم دوات کا استعمال کیا جاتا تھا۔ تختیاں بار بار دھو کر استعمال کی جا سکتی تھیں، ماں باپ پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑتا تھا اور بچے تختی دھونے اور سکھانے کے عمل کے دوران نہ صرف ایک جسمانی ورزش کر لیتے تھے بلکہ چھوٹے موٹے گیت گا کر کھیل اور تفریح کا ذریعہ بھی حاصل کر سکتے تھے۔

لکھنے کی مہارت کی تربیت کے لیے جدید تدریسی مہارتوں کو پیش نظر رکھ کر نصاب سازی کی جائے تو زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہر قسم کی تحریر کی مشق کروائی جائے یعنی تصویر کو دیکھ کر عنوان لکھنا، تصویری کہانیاں لکھنا، نامکمل جملوں کو مکمل کرنا اور پھر بتدریج خاکے کی مدد سے کہانی یا مضمون لکھنا وغیرہ۔ یہ تو محض چند اشارے ہیں۔ اس نوع کی درجنوں سرگرمیاں ہیں جو تخیل کو مہمیز کر سکتی ہیں اور افکار و خیالات کو مربوط انداز میں بیان کرنے کی تربیت میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ان سرگرمیوں کے لیے وقت اور توجہ صرف کی جائے۔

ان چاروں مہارتوں کی تربیت کے علاوہ زبان کے قواعدی نکات سے آشنائی پیدا کرنا بھی انتہائی ضروری عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے رائج استخراجی طریقے کے بجائے استقرائی طریقے پر عمل مفید رہتا ہے۔ اگرچہ نصابات میں استقرائی طریقہ استعمال کرنے کی سفارش تو کی جاتی ہے مگر عملی طور پر وہی پرانا طریقہ رائج ہے جس کے تحت پہلے تعریفیں یاد کروا دی جاتی ہیں اور پھر ان کی مثالیں بتائی جاتی ہیں۔ بہتر ہے کہ تدریسی اسباق میں سے مختلف قواعدی نکات کی شناخت کروانے کے بعد ان کے قواعدی نام یا تعریف سے آگاہ کیا جائے۔ اس طریقے کی مدد سے بچوں میں تجسس اور دلچسپی کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور وہ تعریفیں رٹنے کے عمل سے اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔

مختصر یہ ہے کہ زبان کی تدریس کے عمل کو زیادہ سے زیادہ دلچسپ بنانا ضروری ہے۔ دلچسپی صرف لطیفوں یا مزاحیہ باتوں سے نہیں پیدا ہوتی۔ دلچسپی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بچہ اپنے درس میں خود پوری طرح شریک ہوتا ہے اور چھوٹی چھوٹی مشکلات کو حل کر کے، سوالات کے جواب تلاش کر کے اور کسی نئے نکتے کی دریافت کر کے مسرت بھری کامیابی کو محسوس کرتا ہے۔اس منزل تک پہنچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تدریس کا عمل دو طرفہ اور عملی نوعیت کا ہو۔ یہ استاد سے بچوں کی طرف معلومات کے یک طرفہ بہاؤ کا نام نہ بن جائے، جیسا کہ عملی طور پر ہمارے ہاں رائج ہے

AIOU Solved Assignment Code 6509 Spring 2021

Q No 2.

رشید حسن خاں نے اردو میں باغ و بہار اور فسانہ عجائب جیسے کلاسکل متون کی تدوین کا کام انجام دے کر اردو میں تدوین کی روایت کو جتنا عروج و ارتقا بخشا ہے اس سے  تمام اردو والے واقف ہیں۔ اپنے عمیق مطالعے اور  کل  وقتی  مشاہدے سے خاں صاحب نے اردو میں املا ، انشا اور قوائد کے ایسے اصول وضع کیے جس سے جدید اردو رسم خط کی بنیاد پڑی  اور اس رسم خط سے اردو میں تدوین کے حوالے سے نئے انقلابات رونما ہوئے۔ رشید صاحب سے قبل  ایک نام قاضی عبدالستار کا بھی  آتا ہے جو املا و انشا کے حوالے سے بڑا اہم ہے۔ پر تدوین کی رو سے قاضی صاحب کے بالمقابل رشید صاحب نے زیادہ اہم کارنامے انجام دیئے ہیں ۔ تدوین متن کے تعلق سے خاں صاحب نے فسانہ عجائب اور باغ و بہار دونوں  کے مقدمات میں جو باتیں کی ہیں در اصل وہی ان کی تدوین متن   کے توسط سے نظری تنقید کا نمونہ ہیں۔ جس کا implicationہمیں ان  دونوں کلاسکل متون   پر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ مثلا ً اگر فسانہ عجائب  پر خاں صاحب کے لکھے ہوئے مقدمے اور  اس داستان کے متن کو غور سے پڑھا جائے  تو متن کی تدوین کی ضرورت کے متعلق یہ اہم باتیں سمجھ میں آتی ہیں:
٭    قدیم متن کو پڑھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔
٭    قدیم لفظیات  پر حرکات  کا اضافہ ہو جاتا ہے تاکہ ان کے صحیح تلفظ سے واقفیت حاصل ہو جائے۔
٭    متروک لفظیات کی  حاشیے  میں وضاحت کر دی جاتی ہے اور قدیم لغات سے اس کے معنی بھی دے دیئے جاتے ہیں۔
٭    متن میں punctuation (توقیف نگاری)کا اضافہ کر دیا جاتا ہے، تاکہ قاری کے لئے جملہ سمجھنا آسان ہو جائے۔
٭    گنجلک عبارت کی حاشیہ میں یا حوالے کے طور پر وضاحت پیش کر دی جاتی ہے۔
٭    آخر میں مشکل  الفاظ کی فرہنگ دے دی جاتی ہے۔
یہ اصول رشید صاحب نے کہیں واضح طور پر لکھے نہیں ہیں ،پر جب تدوین متن کے حوالے سے ان کی نظری اور عملی تنقید کا مطالعہ کیا جائے تو ان باتوں کا علم ہوتا ہے۔ رشید صاحب کا فسانہ عجائب کی تدوین میں کافی عرصہ اسی لئے خرچ  ہوا کیوں کہ انہوں نے اس کلاسکل متن کو متذکرہ بالا اصولوں کی روشنی میں مدون کیا ہے۔  یہ ہی وجہ ہے کہ اردو کے دیگر دو اہم محققین نے ان کے اس کارنامے کا اعتراف  بھی کیا ہے اور اپنے تئیں اس کارنامے میں ہر طور شریک بھی رہے ہیں ۔ میری مراد ڈاکٹر خلیق انجم اور ڈاکٹر قمر رئیس سے ہے۔ ان دونوں حضرات کی رائے رشید صاحب اور ان کے اس کام کے متعلق کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں :
اس کام کو کس طرح کیا گیا ہے اس کا اندازہ اس ایک واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کام مکمل ہو چکا تھا ،متن کی کتابت بھی ہو چکی تھی،کہ اچانک ان کو اس کتاب کا ایک ایسا نسخہ ملا جس پر مصنف نے آخری بار نظر ثانی کی تھی۔رشید صاحب نے بلا تکلف پچھلے پانچ سال کے سارے کام کو کالعدم قرار دے دیا اور اب اس نئے نسخے کی بنیاد پر متن کو نئے سرے سے مرتب کیا۔غرض کہ اس کی تکمیل میں اس طرح کم وبیش  آٹھ سال صرف ہوئے ہیں۔
(ص10،پیش لفظ،قمر رئیس ،فسانہ عجائب ،مصنفہ: رجب علی بیگ سرور،مرتبہ: رشید حسن خاںانجمن ترقی اردو  ہند ،نئی دہلی)
فسانہ عجائب کا زیر نظر اڈیشن رشید حسن خاں صاحب کے تقریبا تیس سالہ تجربے اور ان کی سات ،آٹھ سالہ غیر معمولی محنت  اور دیدہ ریزی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے پہلی بار طلبہ اور ان کے اساتذہ کے لیے ایسا متن تیار کیا ہے جو کلاسکی نصابی متنوں کی ترتیب کے نئے انداز سے ہمیں روشناس کراتا ہے اور مثال و معیار کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس میں مشکل الفاظ کا صحیح تلفظ نظروں کے سامنے آجاتا ہے ،فارسی ترکیبوں کو صحیح طور پر پڑھا جا سکتا ہے اور پیچیدہ جملوں کو صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے ۔ ضمیموں میں جو تشریحات ہیں ، ان کی مدد سے اس کتاب کے مشکل مقامات واضح  اور روشن ہو جاتے ہیں ۔ میں اس تنقیدی اڈیشن کے بارے میں پورے  یقین اور وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ استاد اور طالب علم اس مشکل متن کو اب آسانی کے ساتھ پڑھ سکیں گے۔
(ص14،حرف آغاز ،خلیق انجم، فسانہ عجائب ،مصنفہ: رجب علی بیگ سرور،مرتبہ: رشید حسن خاںانجمن ترقی اردو  ہند ،نئی دہلی)
فسانہ عجائب کے مقدمے اور متن کا مطالعہ کرو تو معلوم ہوتا ہے کہ رشید صاحب نے فسانہ عجائب کا متن ایڈیٹ کرتے وقت کئی ایک اہم نکات کو اپنے پیش نظر رکھا تھا،جس کی بنیاد پر یہ کام اتنے جامع انداز میں مکمل ہوا۔ مثلا ً انہوں اپنے مقدمے میں مصنف کے متعلق صرف اہم اہم معلومات فراہم کی ہیں اور زیادہ تر اس کے متن کے متعلق بات کی ہے ،  حالات زندگی کے تعلق سے انہوں  نےنیر مسعود کی کتاب کی طرف اشارہ کر دیا ہے ، اور ساتھ ہی یہ تاکید بھی کی ہےکہ ایک مدون کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ غیر ضروری مباحث میں نہ پڑتے ہوئے متن کے معاملات کی جانب زیادہ متوجہ ہو۔ متن کی طرف رجوع کرتے ہوئے انہوں نے   اولین صورت میں متن کی اشاعتوں کے تعلق سے اہم معلومات فراہم کی ہیں   اور  علی الترتیب یہ بتایا ہے کہ فسانہ عجائب کس کس سن میں مصنف کی زندگی میں شائع ہوا اور کس کس سن میں ان کی حیات کے بعد ،مثلا ًمصنف کی حیات میں 1259،1263، 1267،1276،اور1280میں کل ملا  کرپانچ مرتبہ شائع ہوا، اس کے بعد منشی نول کشور نے  فسانہ عجائب کے  حقوق  اشاعت ان سے خرید لیے جس کے بعد یہ مستقل کئی مرتبہ منشی نول کشور کے  پریس سے شائع ہو کر مناظر عام پر آیا۔ اس کے علاوہ 1862 میں مطبع مصطفائی سے اور 1882،1883 اور1912 میں مختلف مطابع سے شائع ہوا۔ الہ آباد سے پہلی مرتبہ 1928 میں اور دوسری مرتبہ 1976میں شائع ہوا جسے مخمور اکبر آبادی نے ترتیب دیا تھا اور اس کے ناشر رام نرائن لال بینی مادھوتھے۔ مصنف نے اپنی زندگی میں آخری بار جس نسخے کو دیکھا تھا وہ 1880 کا نسخہ تھا جس کے متعلق رشید صاحب نے بحیثیت مدون یہ انکشاف ظاہر کیا کہ اس نسخے کو ان سے قبل کسی مدون نے نہیں دیکھا ہے ، اس کے برعکس اس کی نقل جو 1882 میں مطبع منشی نول کشور سے شائع ہوئی تھی اس کو بنیادی متن بنا کر زیادہ تر مدون  حضرات  نےتدوین کا کام انجام دیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد رشید صاحب نے بنیادی نسخے کو بنیاد نہ بنانے کی باعث دیگر مدون حضرات سے جو غلطیاں ہوئی ہیں اس کی بھی نشان دہی کی ہے۔ رشید صاحب کی اس تدوین سے اصول تدوین کے تعلق سے جو باتیں معلوم ہوتی ہیں ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ کسی متن کےنسخوں کی بہتات ہونے  پر ان کو مختلف علامتوں کے ذریعے الگ کرنا اور اس میں سے بنیادی نسخے کو چننا  کتنا اہم ہوتا ہے۔مثلاً از اول تا آخر نسخوں کو الف،ب،ج کی علامتوں سے نواز کر الگ کیا جاتا ہے یا کسی ایسی علامت کے ذریعے جس سے اس نسخے کے متعلق اہم معلومات اس علامت سے ہی فراہم ہو جائے۔ اس طور پر رشید صاحب نے  فسانہ عجائب کے ان تمام نسخوں کو جو مصنف کی زندگی میں شائع ہوئے مختلف علامتوں سے   واضح کیا ہے ۔مثلاً1259کانسخہ ح ہے، 1263 کانسخہ ض، 1267کانسخہ ک،1276کانسخہ ف اور1280کانسخہ  ل ہے۔ اس سے نسخوں کی نشان دہی واضح انداز میں ہو جاتی ہے اور  کسی قسم کا دھوکا ہونے کے امکان   کافی حد کم ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ فسانہ عجائب کے مقدمے کے طور پر بحیثیت مدون رشید صاحب نے جو باتیں کی ہیں اس سے اور تدوین شدہ متن  کا مطالعہ کرنے سے جو اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں ان میں چند ایک مندرجہ ذیل ہیں :
٭    متن پر معاشرتی اثرات کی وضاحت بھی ہو جاتی ہے ۔(حالاں کہ یہ خالص تنقید کا موضوع ہے۔)
٭    زبان کے ذیل میں املا ، انشا ، بیانیہ، قوائد، الفاظ کی نشست و برخاست، فصاحت و بلاغت ان تمام پہلووں  سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔
٭    اسلوب  کی بحث سے   خاظر خواہ   واقفیت ہو جاتی ہے۔
٭    حوالہ و حواشی دینے کے طور طریقے سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔
٭    جملہ معترضہ تحریر کے درمیان کس طرح پیش کیا جاتا ہے اس سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔
٭    تدوین متن سے الفاظ کو درست انداز میں لکھنے کا طریقہ بھی معلوم ہوتا ہے ،مثلا ً خاں صاحب نے بلکہ کو ہر جگہ بل کہ لکھا۔
رشید حسن خاں نے تدوین فسانہ عجائب کے دوران وہ الفاظ اور جملے جس سے دبستان دہلی اور لکھنو کی بحث میں اضافہ ہو ا ان کو بھی نشان زد کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تدوین متن کے دوران ادبی ،تاریخی ،لسانی اور سماجی و معاشرتی باتوں کی وضاحت بھی ہو جاتی ہے۔اسی طرح لکھنوی زبان کی ساخت  کو بنانے اور سنوارنے میں فسانہ عجائب کا کیا کردار ہے اس پر بھی اپنے مقدمے میں روشنی ڈالی ہے۔ مثلا ً ایک جگہ لکھتے ہیں :
جس طرح ناسخ کی شاعری کی اندرونی فضا اور اس کا مزاج لکھنو کی اس نئی معاشرت کا آئینہ دار ہے۔ اسی طرح سرور کی نثر ،آرایش پسندی کے وسیلے سے اس معاشرت کے انداز و اطوار کی آئینہ  داری  کرتی ہے۔ناسخ اور سرور دونوں اپنے اسالیب بیان کے واسطے سے دبستان لکھنو کے نمایندہ افراد ہیں۔

AIOU Solved Assignment 1 Code 6509 Spring 2021

Q No 3.


online universities in usa > College Scholarships > Scholarship Application Strategies > Apply for Scholarships

اردو زبان کو تو عام طور پر سولہویں صدی سے ہی رابطے کی زبان تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ اس رابطے کی توسیع عہد مغلیہ میں فارسی زبان کے واسطے سے ہوئی۔ اردو زبان کی ساخت میں پورے برصغیر کی قدیم اور جدید بولیوں کا حصہ ہے۔ یہ عربی اور فارسی جیسی دو عظیم زبانوں اور برصغیر کی تمام بولیوں سے مل کر بننے والی ، لغت اور صوتیات کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی اور قبول عام کے لحاظ سے ممتاز ترین زبان ہے۔
اردو ایک زندہ زبان ہے اور اپنی ساخت میں بین الاقوامی مزاج رکھتی ہے۔ یہ زبان غیر معمولی لسانی مفاہمت کا نام ہے۔ اس کی بنیاد ہی مختلف زبانوں کے اشتراک پر رکھی گئی ہے۔ اردو گویا بین الاقوامی زبانوں کی ایک انجمن ہے۲؂ ۔ ایک لسان الارض ہے۳؂ جس میں شرکت کے دروازے عام و خاص ہر زبان کے الفاظ پر یکساں کھلے ہوئے ہیں ۔ اردو میں مختلف زبانوں مثلاً ترکی ، عربی فارسی ، پرتگالی، اطالوی، چینی ، انگریزی ، یونانی، سنسکرت اور مقامی بولیوں اور بھاشایا ہندی سے لیے گئے ہیں۔
غیر زبانوں سے جو الفاظ براہ راست اردو کے ذخیرۂ الفاظ میں شامل ہو گئے ہیں ان میں ۴؂ ۷۵۸۴ الفاظ عربی کے، ۶۰۴۱ الفاظ فارسی کے، ۱۰۵ الفاظ ترکی کے، گیارہ الفاظ عبرانی کے اور سات الفاظ سریانی زبان کے ہیں۔ مزید یہ کہ یورپی زبانوں میں سے انگریزی کے پانچ سو، اور ایک سو ترپن ایسے ہیں جو مختلف یورپی زبانوں ، یونانی، لاطینی ، فرانسیسی، پرتگالی ، اور ہسپانوی زبانوں سے مستعار لیے گئے ہیں ۔
اردو میں شامل اصل دیسی الفاظ کا تناسب سواتین فیصد ، سامی ، فارسی، اور ترکی زبان کے الفاظ تقریباً ۲۵فی صد اور یورپی الفاظ کا تناسب صرف ایک فی صد ہے۔ اس جائزے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو ایک بین الاقوامی مزاج کی حامل زبان ہے۔ اس میں نہ صرف عربی، فارسی یا مقامی بولیوں کے الفاظ ہیں بلکہ دنیا کی ہر قوم اور ہر زبان کے الفاظ کم و بیش شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے مزاج میں لچک اور رنگارنگی ہے لیکن وہ کسی زبان کی مقلد نہیں ہے، بلکہ صورت اور سیرت دونوں کے اعتبار سے اپنی ایک الگ اور مستقل زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔
غیر زبانوں کے جو الفاظ اردو میں شامل ہیں وہ سب کے سب اپنے صلی معنوں اور صورتوں میں موجود نہیں بلکہ بہت سے الفاظ کے معنی، تلفظ، املا اور استعمال کی نوعیت بدل گئی ہے ۔ اردو مخلوط زبان ہونے کے باوجود اپنی رعنائی، صناعی اور افادیت کے لحاظ سے اپنی جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔ اس نے اپنی ساخت ، مزاج اور سیرت کو دوسری زبانوں کے تابع نہیں کیا۔ ان ہی ظاہری ومعنوی خصوصیات اور محاسن کے اعتبار سے یہ دنیا کی اہم زبانوں میں شمار کی جاتی ہے۔
’’ کسی زبان کی آوازوں اور کلمات کوضبط تحریرمیں لانے کے لیے جو مربوط نظام وضع کیا جاتا ہے اسے رسم الخط کہتے ہیں ۔ علمائے لسانیات کے نزدیک ایک اچھے رسم الخط کے لیے ضروری ہے کہ اس میں زبان کی ہر آواز کے لیے ایک مخصوص نشان ہو جو اس آواز کو واضح طور پر ادا کر سکے اور دوسرے وہ رسم الخط کی صورت کے لحاظ سے جاذب نظر اور عملی لحاظ سے سہل ہو‘‘ (۵ )
اردو رسم الخط زبان کی ساری مروج آوازوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اردو کے حروف بناوٹ کے لحاظ سے حددرجہ سادہ اور اشکال کے اعتبار سے بہت کم ہیں ۔ اردو زبان اپنے الفاظ کی بناوٹ کی بناء پر دنیا کی ہر زبان کے مقابلہ میں لکھنے ، پڑھنے اور سیکھنے کے حوالے سے آسان ترین زبان ہے۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں اخذ و جذب کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ یہ ایک قائم بالذات زبان ہے۔ اس میں یہ صلاحیت ہے کہ دوسری زبانوں سے مفید مطلب الفاظ لے لیتی ہے۔ اگر وہ لفظ اس کے مزاج کے ہم آہنگ ہے تو جوں کا توں رہنے دیتی ہے اور اگر ہم آہنگ نہیں ہے تو اس کو ہم آہنگ بنا لیتی ہے۔ اردو اپنے مزاج میں وسیع القلب زبان ہے۔
اردو میں الفاظ سازی کی بھی گنجائش ہے۔ کسی زبان کی ترقی کا انحصار اس کی الفاظ سازی کی اہلیت اور انھیں برتنے کی قوت پر ہوتا ہے ۔ اردو میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت اردو زبان میں عام طور پر استعمال ہونے والے لفظوں کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے۔ اصطلاحی الفاظ ان کے علاوہ ہے۔ الفاظ کا اتنا بڑا ذخیرہ انگریزی کے علاوہ غالباً کسی اور زبان میں نہیں ہے۔ اور چونکہ بین الاقوامی مزاج کی حامل زبان ہے اور اس حیثیت سے اصلاحات سازی کی عالمی کوششوں سے یکساں استفادہ کر سکتی ہے۔
اردو زبان اپنی لسانی مفاہمت اور افادیت کے علاوہ اپنے اندر ایک تہذیبی اور ثقافتی پہلو بھی رکھتی ہے۔ یہ اپنے علمی ، ادبی اور دینی سرمائے کے اعتبار سے بڑی باثروت زبان ہے ۔ اردو میں وسعت پذیری کی بے پناہ طاقت موجود ہے۔ یہ جتنی وسیع ہے اتنی ہی عمیق بھی ہے۔ دینی اور دینوی علوم و فنون کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ پھر بھی اس کی گنجائش بے اندازہ ہے ۔ اردو زبان ہماری تہذیب و ثقافت کی آےئنہ دار ہے ۔ دنیا کی قدیم زبانوں کے مقابلے میں اگرچہ یہ کم عمر ہے لیکن ادبی اور لسانی حیثیت سے اس کا پلہ سینکڑوں زبانوں پر بھاری ہے۔ اردو زبان میں ہماری تہذیب و ثقافت کی تاریخ محفوظ ہے۔ اس کی بدولت ہم اپنے آپ کو ایک متمدن اور ترقی یافتہ قوم کا جانشین خیال کرتے ہیں۔
اردو چونکہ بین الاقوامی مزاج رکھتی ہے اس لیے نہ وہ مغرب کے لیے اجنبی ہے نہ مشرق کے لیے۔ یورپ کے لوگ کئی صدیوں سے اردو زبان سے واقف ہیں اور انہوں نے اس زبان میں گراں قدر علمی و ادبی کارنامے بھی یادگار چھوڑے ہیں۔ یورپ کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں اردو زبان و ادب کے تراجم پر کئی زبانوں میں کام ہو رہا ہے ۔ اسی طرح اردو میں بھی متعدد زبانوں کی تخلیقات کے تراجم ہوئے اور ہو رہے ہیں ، لیکن اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر زبانوں کے تکنیکی، سائنسی اور علمی و فنی کتب و مضامین کو زیادہ سے زیادہ اردو کے قالب میں ڈھالا جائے تاکہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کیا جاسکے۔ عصر حا ضر میں مختلف ملکوں پر زبانوں اور ان کے ادبی خزانوں تک رسائی آسانی سے ممکن ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زبان و ادب کے ذریعے مختلف علاقوں کے رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے مزید قریب آسکتے ہیں اور ایک دوسرے کے لسانی واادبی سرمائے کو سمجھ کر تہذیبی حوالوں ے ایک دوسرے کی شناخت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اردو زبان محبت کی سفیر ہے ۔ یہ مختلف ذہنی دھاروں سے تعلق رکھنے والے ، مختلف عقائدسے وابستہ ، مختلف مزاجوں کے حامل بڑے گروہوں کی تخلیقی و تصنیفی زبان ہے اور بول چال کی سطح پر دنیا کے لاتعداد ممالک میں وہاں کی گلیوں، کوچوں ، بازاروں اور گھروں میں اپنی زندگی کا ثبوت دے رہی ہے اور عالمی سطح پر اپنے حلقہ اثر میں وسعت پیدا کر رہی ہے۔

AIOU Solved Assignment 2 Code 6509 Spring 2021

Q No 4.

یہ ایک انتہائی اہم اور پھیلا ہوا موضوع ہے جس کی کئی جہتیں اور پہلو ہیں۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں خود کو اس موضوع پر کوئی مستند رائے دینے کی اہل نہیں سمجھتی کیوں کہ جدید علمی دنیامیں یہ ایک باقاعدہ علم ہےجس میں نفسیات، سماجیات اور دیگر علوم کی مدد سے نصاب سازی کے اصول مرتب کیے جاتے ہیں۔ البتہ اپنے تیس سالہ تدریسی تجربے کی بنا پر، جس میں ہر سطح کی تدریس شامل ہے،میں اپنے چند مشاہدات اور ان سے حاصل ہونے والئے نتائج آپ کے سامنے پیش کر سکتی ہوں۔

یہ تو تمام اصحاب علم کو معلوم ہے کہ نصاب، درسی کتاب کو نہیں کہتے۔ نصاب دراصل وہ مجموعی خاکہ ہے جس میں کسی خاص مضمون کی تدریس کے مقاصد، عمومی موضوعات اور اس کی سطح کی حد بندی کی جاتی ہے۔ مثالی اردو نصاب کے بارے میں گفتگو سے پہلے چند بنیادی سوالات پر غور کرنا ضروری ہے۔

مثلا ً یہ کہ نصاب سے کس درجے کا نصاب مراد ہے؟ پرائمری سے لے کر جامعات تک ہر درجے کے نصاب کے تقاضے الگ ہیں اور ان کے لیے سفارشات بھی مختلف نوعیت کی ہونی چاہییں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اردو سے مراد اردو زبان ہے یا ادب؟ میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے تو اسی تخصیص کی ضرورت ہے کہ جب ہم تدریس ِاردو کہیں تو اس سے مراد ہو اردو زبان۔ ادب کو زبان کی تدریس کے لیے ضرور استعمال کیا جائے مگر اس کے علاوہ بھی اردو کی تدریس کے مراحل پر توجہ دی جائے۔ کم از کم پہلے بارہ سال کی تعلیمی زندگی میں اردو زبان کے تدریس کے عمل کو مکمل کیا جائے۔ اس کے لیے ادبی مواد کی مدد لی جا سکتی ہے مگر صرف ادب کی تدریس پیش نظر نہ رہے بلکہ معروضی نثر لکھنا، سائنسی اور تکنیکی مضامین کے پیرایۂ بیان کی تربیت دینا اور روزمرہ بات چین اور بول چال کے مختلف اسلوب سکھانا اردو کی تدریس کے لازمی اجزا سمجھے جانے چاہییں۔ ادب کی تدریس ثانوی اور اعلیٰ ثانوی جماعتوں میں بطور اختیاری مضمون کی جا سکتی ہے۔

زبان کی تدریس کی چار بنیادی مہارتیں ہیں۔ جو بتدریج سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں۔ یعنی سب سے پہلے سننا، پھر بولنا، پھر پڑھنا اور پھر لکھنا۔ ان میں سے دو مہارتیں ان پٹ کی حیثیت رکھتی ہیں اور دو آؤٹ پٹ کی۔ سننا اور پڑھنا ان پٹ ہیں اور بولنا اور لکھنا آؤٹ پٹ۔ اب ان میں سے پہلی مہارت یعنی سننے کے عمل کا آغاز فطری طور پر ماں کے پیٹ سے ہی ہو جاتا ہے۔ اور بولنا بھی بچہ سماجی زندگی کے ابتدائی چند سالوں میں سیکھ لیتا ہے لیکن یہ سننا اور بولنا دونوں اس کی مادری زبان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اردو کا معاملہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت کی مادری زبان نہیں ہے لیکن ہر پاکستانی کی دوسری زبان یعنی سیکنڈری لینگویج ضرور ہے۔ اگر کسی ماحول میں اردو بولنے والا کوئی ایک فرد بھی موجود نہ ہو، تب بھی ذرائع ابلاغ، ریڈیو، ٹیلی وژن، گانوں، گیتوں اور قوالیوں کے ذریعے اردو کے الفاظ اور لب و لہجے سے واقفیت پیدا ہو ہی جاتی ہے۔

اسکول میں رسمی تعلیم کے ذریعے اس ابتدائی واقفیت کی پرورش و نمو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نصاب میں ان دونوں بنیادی مہارتوں یعنی سننے اور بولنے کی تربیت کا مناسب یا ضروری اہتمام نہیں ملتا۔ ہم ابتدائی جماعتوں سے دیکھتے ہیں کہ سارا زور پڑھنے اور لکھنے پردیا جاتا ہے۔ سننے اور سن کر درست معنی اخذ کرنے اور اسے یاد رکھنے کی مشق اگر ہو بھی تو اتنی معمولی ہوتی ہے کہ خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ یونی ورسٹیوں میں بھی طلبہ کی ؛لیکچرسن کر سمجھنے اور اسے یادداشت میں محفوظ کر لینے کی صلاحیت انتہائی محدود ہوتی ہے۔ اس کی توجہ کا مرکز بار بار بدل جاتا ہے اور وہ اگلے جملوں کو پچھلے جملوں سے مربوط کر کے کلام کے مجموعی معانی سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے۔

اب سے چالیس پچاس برس پہلے یہ صورت حال نہیں تھی اور ابتدائی جماعتوں میں ان دونوں مہارتوں کی تربیت کے لیے انتہائی سادہ اور نتیجہ خیز مشقیں عام تھیں۔ مثلا ًہر نیا سبق استاد پہلے خود اور بعد میں مانیٹر کے ذریعے بچوں سے بار بار بآواز بلند کہلواتا تھا۔ استاد ایک سطر پڑھتا تھا، بچے اس کے بعد مل کر باجماعت اس سطر کو دہراتے تھے اور یوں نہ صرف استاد کی، بلکہ خود اپنی بھی،آوازسن کر تلفظ، لب و لہجہ اور ادائیگی کی مشق کر لیتے تھے۔ اب اس مشق کو فرسودہ طریقہ سمجھ کر ترک کر دیا گیا ہے۔ استاد بمشکل ایک بار بچوں کے سامنے سبق کی قرات کرتا ہے اور چند بچوں سے منتخب اقتباسات کی قرات کرواتا ہے۔ اس سے ایک تو سب بچوں کو قرات کا موقع نہیں ملتا جس سے ان کی آموزش نہیں ہوتی اور دوسرے ان کی دلچسپی بھی سبق میں نہیں رہتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ لمبی گفتگو سن کر اس سے معانی اخذ کرنا اور انھیں دوبارہ بیان کرنے کے قابل ہونا اب جامعات کے طلبہ کے لیے بھی آسان نہیں رہا۔اسی طرح مارننگ اسمبلی کے نام سے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی سرگرمی میں بچے مل کر کوئی دعا، نغمہ یا ترانہ پڑھتے تھے اور اس سے بھی ان کے اعضاے نطق کی مناسب ورزش ہو جاتی تھی۔ اب کہیں دہشت گردی کے ڈر اور کہیں عمارتوں کی تنگی کے باعث یہ رسم بھی متروک ہوتی جارہی ہے اور صبح صبح ایک گیت گا کر بچوں کے ذہن میں جو تازگی پیدا ہوتی تھی وہ مفقود ہوتی جا رہی ہے۔

لہذا میرے نزدیک بنیادی جماعتوں کے اردو نصاب کی پہلی شرط تو یہ ہونی چاہیے کہ پڑھنے اور لکھنے سے پہلے سننے اور بولنے کی مشق کروائی جائے اور یہ مشق صرف استاد کی صوابدید پر نہ چھوڑی جائے بلکہ اسے باقاعدہ امتحانی سرگرمی کا حصہ بنایا جائے کیوں کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر سطح کے اساتذہ کی اکثریت اپنے منصب کے تقاضوں اور ان کی اہمیت سے بے خبر ہے اور اس وقت تک، کسی کام پر آمادہ نہیں ہوتی جب تک اسے سزا یا جزا کے کسی سلسلے سے مربوط نہ کیا جائے۔ محض ایمان داری اور اخلاقی تقاضے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طور پر نبھانا اب قصہ ٔپارینہ بن چکا ہے اور جو استاد اب بھی اس جرات رندانہ کے مرتکب ہوتے ہیں انھیں اپنی برادری میں کوئی خاص محبت یا عزت کے قابل نہیں سمجھا جاتا بلکہ دیگر ہم کار اکثر ان سے نالاں نظر آتے ہیں اور کسی نہ کسی سازش کے ذریعے انھیں منظر عام سے ہٹانے کی فکر میں رہتے ہیں۔

خیر یہ ایک الگ موضوع ہے اور فی الحال زیر بحث نہیں ہے حالانکہ نظام تعلیم کا اہم ترین ستون اساتذہ ہی ہوتے ہیں۔ موجودہ صورت حال اور اساتذہ کی اس کیفیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نصاب میں کچھ ایسی تبدیلیاں کر سکتے ہیں جو اساتذہ کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مدد دے سکیں۔لیکن یہ نصابی تبدیلیاں صرف اس صورت میں مؤثر ثابت ہوں گی جب انھیں امتحان کے عمل سے گزارنا لازمی قرار دیا جائے۔ نصاب اور امتحانی نظام یعنی ایویلیوایشن سسٹم لازم و ملزوم ہیں۔

لہذا پہلی بات تو یہ ہے کہ ابتدائی جماعتوں میں بلند خوانی اور مکالمے کی تربیت کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائےاور اس کی جانچ کے لیے اردو کے زبانی امتحان کا اہتمام کیا جائے جسے پڑھانے والے استاد کے بجائے کوئی دوسرا استاد لے۔ اس طرح بچے تلفظ، ادائیگی اور گفتگو کے آداب سیکھ سکیں گے اور بتدریج بڑی جماعتوں میں جاتے جاتے مدلل گفتگو کرنے اور اپنے خیالات کو مربوط انداز میں بیان کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔

دوسری تجویز یہ ہے کہ بچوں کے ذخیرۂ الفاظ میں مرحلہ وار اضافہ کرنے کا ٹھوس اور قابل عمل منصوبہ مرتب کیا جائے۔ محض یہ فرض کر لینا کافی نہیں ہوگا کہ نصابی کتب کے اسباق پڑھنے سے بچوں کے ذخیرۂ الفاظ میں خود بخود اضافہ ہوتا رہے گا۔ اس مقصد کے لیے علیحدہ کتابچے مرتب کیے جائیں جن میں الفاظ، ان کے معانی اور ان کے استعمال کو واضح کیا جائے۔ ان الفاظ کی تعداد کیا ہونی چاہیے یا انھیں کس ترتیب سے سکھایا جائے، اس بارے میں پیشہ ور ماہرین نصاب بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کئی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثلاً آسان سے مشکل کی جانب۔ روزمرہ استعمال کے الفاظ سے لے کر بتدریج بڑھتی ہوئی سماجی، علمی اور فکری ضروریات پر مبنی الفاظ کی جانب۔ مفرد سے مرکب کی جانب۔ یا اسی نوع کی کوئی ترجیحی صورت یا ان تمام صورتوں کو پیش نظر رکھ کر ذخیرہ الفاظ مرتب کیا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ترکیب سازی، نئےنئے الفاظ بنانے اور انھیں استعمال کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔

ذخیرۂ الفاظ کے سلسلے میں بچوں کو ابتدائی جماعتوں ہی سے لغت کے استعمال کی عادت ڈالنے کے لیے اس اہم سرگرمی کو بھی نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے بچوں کے مجوزہ ذخیرہ ٔ الفاظ پر مشتمل بولنے والی لغات یا ٹاکنگ ڈکشنریز خصوصی طور پر تیار کی جا سکتی ہیں۔ اب تو ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انتہائی کم لاگت میں ایسی لغات تیار کر کے بلا قیمت بچوں اور ان کے اساتذہ تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔

AIOU Solved Assignment Code 6509 Autumn 2021

Q No 5.

پڑھنے اور لکھنے کی مہارتوں کی تربیت کے لیے نصاب کو اس طور پر تشکیل دیا جائے کہ اخلاقی، دینی اور تہذیبی مقاصد بھی بے شک پیش نظر رہیں لیکن ان کی نوعیت ضمنی رہے۔ اردو کا نصاب مرتب کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اصل مقصد زبان کی تدریس ہے۔ اس مقصد کے لیے نصاب کو نہایت ذہانت اور فن کارانہ حس تناسب کے استعمال سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ نصاب اس طرح وضع کیا جائے کہ اس کے نتیجے میں ترتیب دی جانے والی نصابی کتب مطلوبہ نتائج پیدا کرنے کی پابند ہو جائیں یعنی اس میں مقاصد اور طریق کار کے متعلق واضح ہدایات درج ہوں۔ مثلاً یہ کہ پڑھ کر عبارت کی درست تفہیم کے لیے جو تحریری ٹکڑے منتخب کیے جاتے ہیں ان میں بچوں کی عمر، ذوق، استعداد اور دلچسپی کو تو مد نظر رکھا ہی جاتا ہے لیکن زبان کی چاشنی اور اثر انگیزی کے پہلو کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے اور تفہیم کے ساتھ ساتھ تحسین کے عمل کو جزو ِ نصاب بنایا جائے۔غیر ضروری طوالت اور پھسپھسی، بے جان عبارتوں سے گریز کر کے، اردو کے نئے پرانے عظیم اور معتبر انشا پردازوں کی تحریروں کے ٹکڑے پیش کیے جائیں جن کے معنوی اور فنی پہلوؤں کی تفہیم و تحسین اساتذہ کے ذریعے کروائی جائے اور اس مقصد کے لیے خود اساتذہ کو بھی نہایت واضح ہدایات دی جائیں۔ نیز اس بات پر بھی زور دیا جائے کہ بچے عبارت کو پڑھ کر اس کے مرکزی نکتے یا نکات کو سمجھ لیں اور پھر اسے اپنے الفاظ میں بیان بھی کر سکیں۔ ابتدا میں طویل عبارتوں کے بجائے مختصر اقتباسات کے ذریعے مشق کروانا اہم ہوتا ہے جس میں بیک وقت بہت سی باتوں کے بجائے ایک ہی مرکزی خیال تک پہنچناکافی ہو۔

لکھنے کی مہارت کی تربیت کے لیے مشق کا آغاز خوش خطی اور پھر املا سے ہونا چاہیے۔ پہلے حروف کی درست نشست اور ان کے جوڑ واضح کرنا ضروری ہیں۔ اس مشق کے لیے خاطر خواہ وقت مخصوص کرنا ضروری ہے۔ بار بار کی جانے والی مشق سے ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے زمانے میں تختیوں اور قلم دوات کا استعمال کیا جاتا تھا۔ تختیاں بار بار دھو کر استعمال کی جا سکتی تھیں، ماں باپ پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑتا تھا اور بچے تختی دھونے اور سکھانے کے عمل کے دوران نہ صرف ایک جسمانی ورزش کر لیتے تھے بلکہ چھوٹے موٹے گیت گا کر کھیل اور تفریح کا ذریعہ بھی حاصل کر سکتے تھے۔

لکھنے کی مہارت کی تربیت کے لیے جدید تدریسی مہارتوں کو پیش نظر رکھ کر نصاب سازی کی جائے تو زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہر قسم کی تحریر کی مشق کروائی جائے یعنی تصویر کو دیکھ کر عنوان لکھنا، تصویری کہانیاں لکھنا، نامکمل جملوں کو مکمل کرنا اور پھر بتدریج خاکے کی مدد سے کہانی یا مضمون لکھنا وغیرہ۔ یہ تو محض چند اشارے ہیں۔ اس نوع کی درجنوں سرگرمیاں ہیں جو تخیل کو مہمیز کر سکتی ہیں اور افکار و خیالات کو مربوط انداز میں بیان کرنے کی تربیت میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ان سرگرمیوں کے لیے وقت اور توجہ صرف کی جائے۔

ان چاروں مہارتوں کی تربیت کے علاوہ زبان کے قواعدی نکات سے آشنائی پیدا کرنا بھی انتہائی ضروری عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے رائج استخراجی طریقے کے بجائے استقرائی طریقے پر عمل مفید رہتا ہے۔ اگرچہ نصابات میں استقرائی طریقہ استعمال کرنے کی سفارش تو کی جاتی ہے مگر عملی طور پر وہی پرانا طریقہ رائج ہے جس کے تحت پہلے تعریفیں یاد کروا دی جاتی ہیں اور پھر ان کی مثالیں بتائی جاتی ہیں۔ بہتر ہے کہ تدریسی اسباق میں سے مختلف قواعدی نکات کی شناخت کروانے کے بعد ان کے قواعدی نام یا تعریف سے آگاہ کیا جائے۔ اس طریقے کی مدد سے بچوں میں تجسس اور دلچسپی کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور وہ تعریفیں رٹنے کے عمل سے اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔

مختصر یہ ہے کہ زبان کی تدریس کے عمل کو زیادہ سے زیادہ دلچسپ بنانا ضروری ہے۔ دلچسپی صرف لطیفوں یا مزاحیہ باتوں سے نہیں پیدا ہوتی۔ دلچسپی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بچہ اپنے درس میں خود پوری طرح شریک ہوتا ہے اور چھوٹی چھوٹی مشکلات کو حل کر کے، سوالات کے جواب تلاش کر کے اور کسی نئے نکتے کی دریافت کر کے مسرت بھری کامیابی کو محسوس کرتا ہے۔اس منزل تک پہنچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تدریس کا عمل دو طرفہ اور عملی نوعیت کا ہو۔ یہ استاد سے بچوں کی طرف معلومات کے یک طرفہ بہاؤ کا نام نہ بن جائے، جیسا کہ عملی طور پر ہمارے ہاں رائج ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ نصاب کیسا ہی عمدہ کیوں نہ ہو، اگر درسی کتاب نصاب کے مقاصد پورے نہ کرتی ہو تو نصاب بے کار ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف درسی کتاب کیسی ہی دلچسپ اور کارگر کیوں نہ ہو، اگر استاد میں ذہانت، تدریسی عمل سے دلچسپی اور تخلیقی صلاحیت نہ ہو تو کتاب اپنے مقاصد پورے نہیں کرتی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ نصاب، کتاب اور استاد سب کے ہوتے ہوئے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے اگر امتحانی نظام ان مقاصد سے ہم آہنگ نہ ہو جن کے لیے نصاب تشکیل دیا گیا ہے۔ جدید دنیا میں امتحان لینے کے خاصے غیر رسمی طریقے رائج ہیں جن میں سے بعض تو دیکھنے میں قطعی امتحان معلوم نہیں ہوتے لیکن وہ عملی طور پر بچوں کی کارکردگی کی آزمائش کرتے ہیں اور تعلیم کو عملی زندگی سے ہم آہنگ کرنےکی ضمانت دیتے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ نصاب ہو، یا امتحان، اساتذہ ہوں یا طلبہ، جب تک حسن نیت اور خلوص کار شامل ہو، سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *