Free AIOU Solved Assignment Code 1345 Spring 2021

Free AIOU Solved Assignment Code 1345 Spring 2021

Download 2021 Aiou solved assignment code 1345 free autumn/spring, aiou updates solved assignments. Get free AIOU All Level Assignment from aiousolvedassignment.

Title Name Principles of Commerce (1345)
University AIOU
Service Type Solved Assignment (Soft copy/PDF)
Course FA
Language ENGLISH
Semester 2021-2021
Assignment Code 1345/2020-2021
Product Assignment of MA 2021-2022 (AIOU)

 

 

Course: Principles of Commerce (1345)
Semester: Spring 2021
ASSIGNMENT No. 1

Ans 1.

پاکستان کی ترقی  معاشی ترقی اور نوجوانوں کی معاشی عمل میں موثر شمولیت  سے وابستہ ہے۔ معاشی ترقی کا عمل اسی صورت میں آگے بڑھے گا جب نئی نسل کے لیے روائتی طور طریقوں کی بجائے نئے جدید خیالات کے ساتھ معاشی ترقی کی  دوڑ میں شامل ہوگی۔ اس وقت دنیا بھر میں  معاشی ترقی  میں کامرس   اہم ہے۔  نئی کاروباری سوچ اور فکر  میں  کامرس  کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔

دنیا میں تجارت کو فروغ دینے کاروباری ڈھانچہ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اب ایک بڑا مسئلہ ڈیجیٹل بنیاد پر کاروباری ترقی اور مواقع کا بھی ہے۔تجارت میں نئی نئی جہتیں سامنے آرہی ہیں۔90کی دہائی میں ڈاٹ کام عروج پر آگئی تو اس کی بڑی وجہ اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ تجارت کو گلوبل کرنے کے مواقع سامنے آئے۔  پہلی دفعہ کامرس  نے ملکی معاشی ترقی میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کیں۔اگرچہ اس وقت ناقدین کا خیال تھا کہ انٹر نیٹ پروٹوکول کے زریعے تجارت کرنا ایک خطرناک رجحان ہوگا۔اسی دور میں 1995میں جیف بیزوزنے ایک گیراج میں بیٹھ کر کامرس  کی بنیاد پر اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی جس کانام ایمازون تھا۔اس تجربہ کے بعد اور بھی بہت سے لوگوں نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔آج کے دور میں اس طرح کے کامرس  کے تجربات نے اب پوری دنیا میں کامرس  کو دنیا کی سب سے بڑی صنعت بنادیا ہے۔

پاکستان میں بھی زمین ڈاٹ کام، دراز ڈاٹ کام، پاک ویلز، جیسے کئی ادارے چند افراد کی مدد سے اربوں روپے کے نہ صرف کاروبار میں مصروف ہیں بلکہ نئے روزگار بھی پیدا کررہے ہیں۔اس لیے انٹرنیٹ سمیت دیگر نئے رجحانات سے ایک نئی کاروباری دنیا سامنے آئی ہے اور پاکستان بھی اس میں آگے بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔پچھلے ایک برس میں پاکستان میں عورتوں اور نئی نسل نے آن لائن شاپنگ سے متعارف کروایا ہے۔ پنجاب کے بڑے شہر فیصل آباد، سیالکوٹ کی بڑی صنعتیں بھی کامرس  کی بنیاد پر اپنے کاموں کو فروغ دے رہی ہیں۔نوجوان خود چھوٹے چھوٹے کام کی بنیاد پر اپنا روزگار یا کسی کے روزگار سے منسلک ہوکر اس نئی کاروباری جہت کا حصہ بن رہے ہیں۔

نوجوان طبقہ بنیادی طور پر روزگار کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اسے یقینی طور پر آگے بڑھنے کے لیے معاشی مواقع کی تلاش ہوتی ہے۔ بالخصوص

جاب کی تلاش میں نوجوان روائتی انداز اختیار کرتے ہیں۔جبکہ رسمی نوکریاں کم ہوتی جارہی ہیں اور اس کے مقابلے میں غیر رسمی انداز میں معاشی ترقی کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔پاکستان میں آن لائن شاپنگ کے رجحان میں  تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے اور لوگ اب گھر بیٹھ کر ہی اپنی مرضی کے مطابق اشیا کی خریداری کررہے ہیں۔خاص طور پر وہ طبقہ جو کامرس  یا ڈیجیٹل معاملات میں  رسائی رکھتا ہے وہ اس عمل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھارہا ہے۔ صرف اشیا کی خریداری ہی نہیں بلکہ کئی نوجوان خود آگے بڑھ کر کامرس  کو بنیاد بنا کر اپنا چھوٹا موٹا یا بڑا کاروبار کرکے اپنے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کررہے ہیں۔

کامرس  کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے  ریاست، حکومت او رہم اہم ادارے کام کررہے ہیں۔ انفرادی سطح پر کچھ نوجوان بھی اس اہم کام کے پھیلاؤ میں  ہاتھ بٹا رہے ہیں۔  ان میں ایک بڑا نام ثاقب اظہر کا  ہے جو ایک معروف کامرس  کی ترقی سے جڑے ادارے کے سربراہ ہیں۔ ان کا بنیادی کام ملک میں کامرس  کو زیادہ سے زیادہ آگاہی دینا ہے تاکہ نئی نسل کے لوگ اپنے کاروبار کو کامرس  کے ساتھ جوڑ سکیں۔ان کے بقول اس ملک سے اگر واقعی غربت کا خاتمہ کرنا ہے تو اس کی ایک بڑی بنیاد کامرس  ہی بن سکتی ہے۔کیونکہ یہ ہی وہ زریعہ ہے کہ جس کی مدد سے آپ گھر بیٹھ کر ہی اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ثاقب اظہر نہ صرف  کامرس  کی آگاہی دیتے ہیں بلکہ اس کی مدد سے روزگار کمانے کے ہنر  بھی سکھاتے ہیں۔ یعنی وہ تربیت کا اہتمام بھی کررہے ہیں۔

اصل میں سرمایہ دار او رہنر مند افراد کے درمیان ایک مضبوط تعلق جوڑنے کی ضرورت ہے او ریہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم اپنی سطح پر معاشی ترقی کا ماحول پیدا کریں اور لوگوں میں جدید طریقوں سے معاشی ترقی کے جال کو پھیلانا ہوگا۔ثاقب اظہر  کی کتاب  بھی اس موضوع کا احاطہ کرتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان جب چین اور دیگر ممالک کی مثالیں دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ملک سے خط غربت کو کم کیا ہے تو اس پر عملدرآمد کے لیے بھی ہمیں کامرس  کو بنیاد بنانا ہوگا۔یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب یہ ہماری نہ صرف پالیسی سازی میں سیاسی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے بلکہ یہ عملی طور پر ہر فرد یا ادارے کو واضح طور پر نظر بھی آنا چاہیے۔ایسے میں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شعبہ میں کام کرنے والے لوگوں کی سرپرستی کریں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں کامرس  کے پھیلاؤ میں کیا ایسے اقدامات کرنے چاہیے جو واقعی ہمارے لیے معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرسکیں۔ اول ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ملک کو گلوبل کامرس  کا حصہ بننا ہے اور یہ ہی ہماری معاشی ترقی کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے اور اس کے لیے  ادائیگیوں کے جدید نظام کو متعارف کروانا ہوگا۔ دوئم انٹرنیٹ فورجی جیسی سہولیات کو عام کرنا ہوگا اور لوگوں کی تربیت سمیت اس پر ا ن کی رسائی کو عام کرنا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس معاشی ترقی کا حصہ بن سکیں۔ سوئم ہمیں اپنے تعلیمی نصاب میں مینجمنٹ، مارکیٹنگ، اشتہارات، سیلز کے ساتھ ساتھ کامرس  کو بھی بنیاد بنانا ہوگا اور نئی نسل میں آگہی پیدا کرنا ہوگی۔چہارم ہمیں اپنی منڈی یا کاروباری مراکز کو کامرس  کے  نظام میں لانا ہوگا۔اور کامرس  کی تعلیم یا شرح خواندگی کو عام کرنا ہوگا۔خاص طور پر اگرہم نے واقعی سی پیک سے زیادہ سے زیادہ فادہ اٹھانا ہے تو ہمیں کامرس  کی بنیاد پر معاشی ترقی کا ایک بڑا روڈ میپ درکارہے جو ہماری معاشی ترقی میں نئی جہتوں کو پیدا کرسکے گا۔

کسی صنعت کی تعریف معاشیات کی رو سے ایک مخصوص جغرافیائی دائرے میں کسی مخصوص زمرے کے مصنوعات کی تیاری کرنے والے سبھی ادارہ جات پر ہوتا ہے۔ مثلًا بھارت میں ریاست مہاراشٹر کی شکر کی صنعت۔ اس میں گنے کے کسان اور وہ سب کارخانہ دار آ جاتے ہیں جو شکر اور متصلہ مصنوعات جیسے کی گُڑ کے بنانے سے جڑے ہیں۔ دودھ کی صنعت سے وہ سارے کاروبار جڑے ہیں جو دودھ کے کاروبار اور اس بننے والی مصنوعات سے جڑے ہیں۔ دودھ سے جو اشیا بن کر نکلتی ہیں ان میں دہی، لسی، چھانجھ، آئس کریم وغیرہ شامل ہیں۔ کسی صنعت میں اشیا کی نوعیت کے حساب سے اس کی مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں۔ مثلٓا دودھ کی اشیا کی شیلف پر زندگی محدود ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کی بکری یا تو فورًا ہونا چاہیے یا پھر مصنوعات بے کار ہو جاتے ہیں۔ مگر کچھ مصنوعات کی شیلف زندگی زیادہ ہوتی ہے۔ کئی دوا ساز کمپنیاں اپنی دواؤں دو دو سال تک اس کے استعمال کی میعاد لکھتی ہیں۔ کچھ مصنوعات ایسی بھی ہیں جن کی شیلف زندگی لامحدود ہے یا مصنوعات کے رکھنے پر منحصر ہے۔ جیسے کہ پلاسٹک اور اسٹیل سے بننے والے مصنوعات۔ یہ عملًا رکھ رکھاؤ پر منحصر رہتے ہیں اور اپنے بننے کے سالوں بعد بھی قابل فروخت ہیں۔

کسی بھی فعال معیشت میں صنعتوں کی اپنی اہمیت ہوتی۔ کل گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) کا حساب اشیا اور خدمات کی کل تعداد کے حساب سے ہوتا ہے۔ یہ جب یہ زیادہ ہوتے ہیں، تو ملک میں کم قیمتوں پر زیادہ اشیا دست یاب ہوں گے۔ اسی طرح بیرون ملک اس ملک کے سکے کی قیمت بھی زیادہ ہوگی۔ ملک کی مصنوعات دیگر ملکوں میں بیچے جائیں گے۔ مگر ان کی کمی کی صورت میں ملک میں زیر دوران دولت کی اندرونی افادیت بے حد کم ہو جائے گی۔ بیرون ملک میں بھی اس ملک کی مصنوعات کم ہی فروخت ہوں گی اور اسی طرح اس ملک کے سکے کی قیمت بھی کم گردانی جائے گی۔

AIOU Solved Assignment Code 1345 Spring 2021

ANS 02

اندرونی ماحول فرم کے گھروں میں موجود عوامل ، جو فطرت میں اکثر دستوری ہوتے ہیں۔ دوسری طرف، بیرونی ماحول ان عوامل پر مشتمل ہے جو فرم کے بیرونی ہیں۔کاروبار سے مراد تجارت خرید کر بیچ کر پیسہ کمانے میں فرم

کاروبار سے مراد تجارت خرید کر بیچ کر پیسہ کمانے میں فرم کی اجتماعی کوشش ہے۔ ہم سب اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہر کاروبار ایسے ماحول میں چلتا ہے جس کو کہتے ہیں کاروباری ماحول. کاروباری ماحول میں وہ تمام عناصر شامل ہوتے ہیں جن کے کاروبار کے فیصلوں ، چالوں اور افعال پر اثر پڑتا ہے۔

تبدیلیوں اور سرگرمیوں کی وجہ سے ماحولیاتی عوامل نہ صرف کاروبار پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ ان عوامل کو کاروباری سرگرمیوں سے بھی متاثر کیا جاسکتا ہے۔ کنٹرول کی حد کی بنیاد پر ، ماحولیاتی عوامل کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے یا قسمیں کہتے ہیں – داخلی ماحولیات اور بیرونی ماحولیات۔ تو ، آئیے اس بحث سے اس دو ماحول کے مابین فرق پر بحث شروع کریں۔

موازنہ کی بنیاد اندرونی ماحول بیرونی ماحول
مطلب اندرونی ماحولیات سے مراد کمپنی میں موجود تمام باطنی قوتیں اور حالات ہیں ، جو کمپنی کے کام کو متاثر کرسکتے ہیں۔ بیرونی ماحولیات ان تمام خارجی قوتوں کا ایک مجموعہ ہے جو تنظیم کی کارکردگی ، منافع بخش ، اور فعالیت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فطرت قابو پانے والا بے قابو
پر مشتمل ہے صلاحیتیں اور کمزوریاں مواقع اور دھمکیاں
اثر پڑتا ہے صرف کمپنی صنعت میں کام کرنے والی تمام کمپنیاں
برداشت کرنا کاروباری حکمت عملی ، افعال اور فیصلے کاروبار کی بقا ، نمو ، ساکھ ، توسیع ، وغیرہ۔

داخلی ماحولیات کاروباری ماحول کا وہ حصہ ہے جس کا تعلق تنظیم کے اندر موجود مختلف عوامل سے ہے۔ اس میں شرائط ، افواج ، ممبران اور واقعات پر مشتمل ہے جس میں کمپنی کے فیصلوں اور کارروائیوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

  • ویلیو سسٹم: ویلیو سسٹم کو اصولوں کی ایک سیٹ اور منطقی اور مستحکم اقدار کے ذریعہ فرم کے ذریعہ ایک معیاری ہدایت نامہ کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے ، تاکہ کسی بھی قسم کے حالات میں طرز عمل کو باقاعدہ بنایا جاسکے۔
  • وژن ، مشن اور مقاصد: نقطہ نظر سے مراد انٹرپرائز کیا حاصل کرنا چاہتا ہے اس کی مجموعی تصویر ہے ، جبکہ مشن تنظیم اور اس کے کاروبار ، اور اس کے وجود کی وجہ کے بارے میں بات کرتا ہے۔ آخر میں ، مقاصد بنیادی سنگ میل کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، جو دستیاب وسائل کے ساتھ مخصوص مدت کے اندر حاصل کرنے کے لئے طے کیے جاتے ہیں۔
  • مینجمنٹ ڈھانچہ اور اندرونی طاقت کا رشتہ: مینجمنٹ ڈھانچے کا مطلب تنظیمی درجہ بندی ، جس طرح سے کاموں کو تفویض کیا جاتا ہے اور وہ کس طرح سے منسلک ہوتے ہیں ، انتظامیہ کا ایک دائرہ ، مختلف فنکشنل علاقوں کے مابین تعلق ، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل ، شیئر ہولڈنگ نمونہ اور اسی طرح۔ دوسری طرف ، اندرونی طاقت کا رشتہ سی ای او اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے مابین تعلقات اور ہم آہنگی کو بیان کرتا ہے۔ مزید برآں ، ملازمین اور تنظیم کے دیگر ممبروں کی طرف سے موصولہ تعاون اور شراکت کی ڈگری تنظیم کے فیصلہ سازی کی طاقت اور اس کے تنظیم بھر میں نفاذ کو مستحکم کرتی ہے۔
  • انسانی وسائل: انسانی وسائل تنظیم کا سب سے اہم اثاثہ ہیں ، کیونکہ وہ تنظیم کو بنانے یا توڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مہارت ، قابلیت ، رویہ ، لگن ، حوصلے اور عزم ، کمپنی کی طاقت یا کمزوری کے مترادف ہیں۔
  • ٹھوس اور ناقابل اثاثہ جات: ٹھوس اثاثوں سے مراد جسمانی اثاثے ہیں جو کمپنی کے پاس ہیں جیسے زمین ، عمارت ، مشینری ، اسٹاک وغیرہ۔ ناقابل اثاثہ اثاثہ جات تحقیق اور ترقی ، تکنیکی صلاحیتوں ، مارکیٹنگ اور مالی وسائل وغیرہ کے برابر ہیں۔

بیرونی کاروباری ماحول میں تمام ظاہری عوامل ، اثرات ، واقعات ، ہستیوں اور حالات پر مشتمل ہوتا ہے ، جو اکثر کمپنی کی حدود سے باہر موجود رہتے ہیں لیکن ان کا کاروباری عمل ، کارکردگی ، منافع بخش کاروبار اور کاروبار کی بقا پر ان کا خاص اثر ہے۔

بصورت دیگر اسے ٹاسک ماحول کہا جاتا ہے ، یہ عوامل براہ راست کمپنی کے کاموں کو متاثر کرتے ہیں ، کیوں کہ اس میں کمپنی کو گھیرنے والے فوری ماحول کو شامل کیا جاتا ہے۔ فطرت میں عوامل کسی حد تک قابو پانے والے ہیں۔ اس میں شامل ہیں:

  • حریف: حریف کاروباری حریف ہیں ، جو ایک ہی صنعت میں چلتے ہیں ، ایک ہی مصنوعات اور خدمات پیش کرتے ہیں ، اور ایک ہی سامعین کو پورا کرتے ہیں۔
  • سپلائر: پیداوار کے عمل کو انجام دینے کے لئے ، خام مال کی ضرورت ہوتی ہے جو سپلائرز فراہم کرتے ہیں۔ سپلائر کے طرز عمل کا براہ راست اثر کمپنی کے کاروباری عملوں پر پڑتا ہے۔
  • گاہکوں: صارفین ہدف کے سامعین ہیں ، یعنی وہ جو خریداری کرتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں۔ صارفین کو ہر کاروبار میں سب سے اہم مقام دیا جاتا ہے ، کیونکہ ، مصنوعات صرف اور صرف صارفین کے لئے تیار کی گئیں۔
  • بیچوان: بہت سارے افراد یا فرمیں ہیں جو آخری خریدار تک مصنوعات کی ترویج ، فروخت ، تقسیم اور فراہمی میں کاروباری انٹرپرائز کی مدد کرتی ہیں ، جنھیں مارکیٹنگ انٹرمیڈیریز کہا جاتا ہے۔اس میں ایجنٹ ، تقسیم کار ، ڈیلر ، تھوک فروش ، خوردہ فروش ، ترسیل لڑکے وغیرہ شامل ہیں۔
  • حصص یافتگان: حصص یافتگان کمپنی کے اصل مالک ہیں ، کیونکہ وہ کمپنی میں اپنا پیسہ لگاتے ہیں۔ منافع کی شکل میں بھی وہ اپنا حصہ منافع میں حاصل کرتے ہیں۔ در حقیقت ، انہیں کمپنی کی عام اجلاس میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔
  • ملازمین: ملازمین کا مطلب کمپنی کے عملے سے ہوتا ہے ، جو کمپنی کو اپنے مشن تک پہنچنے میں مدد کے لئے کمپنی کے لئے کام پر مامور ہوتے ہیں۔ لہذا ، فرم کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ، صحیح لوگوں کو ملازمت دیں ، انہیں برقرار رکھیں اور انھیں حوصلہ افزائی کریں تاکہ ان میں سے بہترین فائدہ اٹھا سکے۔
  • میڈیا: میڈیا ہر کمپنی کی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ کمپنی کی مصنوعات کو راتوں رات مقبول بناسکتی ہے یا یہ صرف ایک ہی دفعہ میں ان کو بدنام کر سکتی ہے۔ یہ اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ میڈیا کی رسائ بہت زیادہ ہے اور اس ل every ہر مواد جو میڈیا کی کسی بھی شکل پر نشر ہو رہا ہے کمپنی کو مثبت یا منفی اثر انداز کرسکتا ہے جس میں اس پر منحصر ہے کہ اس میں کس قسم کی معلومات موجود ہے۔

بصورت دیگر عام ماحول کے طور پر ، میکرو ماحول پوری صنعت کو متاثر کرتا ہے نہ کہ خاص طور پر فرم کو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عوامل فطرت میں مکمل طور پر بے قابو ہیں۔ فرم کو میکرو ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق خود کو اپنانے کی ضرورت ہے ، تاکہ زندہ رہ سکے اور ترقی پائے۔ اس میں شامل ہیں:

  • معاشی ماحولیات: خطے اور مجموعی طور پر ملک کے معاشی حالات کا کمپنی کے منافع پر نمایاں اثر پڑتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خریداری کی طاقت ، بچت کی عادات ، فی کس آمدنی ، قرضوں کی سہولیات وغیرہ کا بہت انحصار ملک کے معاشی حالات پر ہوتا ہے ، جو کمپنی کی مصنوعات کی طلب کو منظم کرتا ہے۔
  • سیاسی اور قانونی ماحول: سیاسی اور قانونی ماحول قوانین ، قواعد ، ضوابط اور پالیسیوں پر مشتمل ہے جس کو کمپنی کو ماننے کی ضرورت ہے۔ ان قوانین اور حکومت میں بدلاؤ کمپنی کے فیصلوں کو متاثر کرسکتا ہے ، کاروبار کے لئے نئے مواقع کے دروازے کھول سکتا ہے یا کاروبار کو خطرہ لاحق ہے۔
  • تکنیکی ماحولیات: ٹکنالوجی ہمیشہ تبدیل ہوتی رہتی ہے ، کیوں کہ روزانہ کسی بھی چیز کا نیا اور بہتر ورژن لانچ ہوتا ہے جو جدید ترین ٹکنالوجی کے ساتھ تخلیق کیا گیا ہے۔ اگر یہ کمپنی ریس میں سب سے پہلے محرک کی حیثیت رکھتی ہے تو یہ ایک پلس پوائنٹ ہوسکتا ہے۔ مصنوعات کی کامیابی کے لئے. تاہم ، اگر یہ ناکامی کے طور پر نکلا تو ، یہ وقت ، رقم اور کوششوں کے ضیاع کے طور پر ثابت ہوگا۔ مزید یہ کہ ہر کمپنی کو بدلتی ہوئی ٹکنالوجی سے خود کو اپ ڈیٹ رکھنا ہوگا۔
  • سماجی و ثقافتی ماحول: معاشرتی اور ثقافتی ماحول ان عوامل پر مشتمل ہے جن کا تعلق انسانی رشتوں جیسے رسم و رواج ، روایات ، عقائد ، اقدار ، اخلاق ، ذوق اور بڑے پیمانے پر معاشرے کی ترجیحات سے ہے۔ کمپنی کو مختلف معاملات جیسے ملازمین کی خدمات حاصل کرنے ، مصنوعات اور خدمات کی تشہیر ، فیصلہ سازی وغیرہ جیسے معاملات پر ان عوامل پر غور کرنا چاہئے۔
  • آبادیاتی ماحولیات: جیسا کہ نام سے پتہ چلتا ہے ، آبادیاتی ماحول جغرافیائی علاقے میں آبادی کی جسامت ، قسم ، ساخت ، تعلیم کی سطح اور آبادی کا احاطہ کرتا ہے۔ اس ماحول کا علم ہدف آبادی کے ل for زیادہ سے زیادہ مارکیٹنگ کے مرکب کا فیصلہ کرنے میں فرم کی مدد کرے گا۔
  • عالمی ماحولیات: لبرلائزیشن کی وجہ سے گھریلو کمپنی اپنی مصنوعات اور خدمات دوسرے ممالک کو فروخت کیلئے پیش کر سکتی ہے۔ در حقیقت ، بہت سی کمپنیاں ہیں جو پوری دنیا میں متعدد ممالک میں کام کررہی ہیں۔ تاہم ، ایسی کمپنیوں کو ان ممالک میں مروجہ قوانین پر عمل کرنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی انہیں بین الاقوامی قوانین اور ہدایات پر بھی عمل پیرا ہونا پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ ، جوابات اور کمپنی کے معیارات عالمی ماحول کے مطابق ہوں گے

داخلی اور خارجی ماحول کے مابین فرق مندرجہ ذیل بنیادوں پر واضح طور پر نکالا جاسکتا ہے۔

  1. داخلی ماحول ان تمام عوامل ، واقعات ، حالات ، وغیرہ پر مشتمل ہے جو کمپنی کے اندر موجود ہیں اور وہ کمپنی کے اسٹریٹجک فیصلوں اور افعال کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، اسی طرح وہ کمپنی کے فیصلوں سے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ بیرونی ماحول کاروباری ماحول کا وہ حصہ ہے جو ان تمام عوامل پر مشتمل ہوتا ہے جو کمپنی کے اندر موجود نہیں ہوتے ہیں لیکن وہ کمپنی کے عمل ، فیصلوں ، بقا ، نمو اور منافع کو متاثر کرسکتے ہیں۔
  2. داخلی ماحولیاتی عوامل فطرت میں قابل کنٹرول ہیں ، اس لحاظ سے کہ کمپنی کو ان عوامل پر بالادستی حاصل ہے۔ اس کے برعکس ، بیرونی ماحولیاتی عوامل فطرت میں بڑے پیمانے پر بے قابو ہیں۔
  3. اندرونی ماحولیاتی عوامل ، یا تو طاقت فراہم کرتے ہیں یا فرم کو کمزوری کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے برعکس ، بیرونی ماحولیاتی عوامل یا تو مواقع دیتے ہیں یا خطرہ لاحق ہیں۔
  4. اندرونی ماحولیاتی عوامل میں تبدیلی صرف کمپنی کو متاثر کرتی ہے ، کیونکہ عوامل خاص طور پر کمپنی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس ، بیرونی ماحولیاتی عوامل میں تبدیلیوں کا مجموعی طور پر صنعت پر اثر پڑتا ہے اور اسی وجہ سے صنعت میں کام کرنے والی تمام کمپنیاں اس سے متاثر ہوجاتی ہیں۔
  5. داخلی ماحول ان عوامل پر مشتمل ہوتا ہے جو کمپنی کے فیصلوں ، کام کرنے اور حکمت عملی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پلٹائیں طرف ، بیرونی ماحول ان عوامل پر مشتمل ہوتا ہے جو کمپنی کی بقا ، نمو ، ساکھ اور توسیع کو مثبت یا منفی اثر انداز کرسکتے ہیں۔

AIOU Solved Assignment 1 Code 1345 Spring 2021

ANS 03

پوری دنیا میں سماجی و معاشی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لئے تعلیم کو پہلا حق کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کسی بھی قوم کی معاشی اور معاشرتی ترقی کا انحصار انسانی وسائل پر ہے۔ انسانی وسائل کسی بھی قوم کی دولت کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔ سرمایہ اور قدرتی وسائل پیداوار کے معمولی عوامل ہیں، جب کہ انسان سرگرم عوامل ہیں جو سرمایہ اکٹھا کرتے ہیں اور قدرتی وسائل استعمال میں لاتے ہیں سماجی اور سیاسی تنظیمیں قائم کرتے ہوئے قومی ترقی کے عمل کو بہترو تیز بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کسی ملک کا علم اور مہارتیں معاشی ترقی کے لئے استعمال کرنا بے شک خوشحال معاشرے کی ضمانت ہیں سماجی شعبے جیسا کہ تعلیم صحت علم کسی بھی ملک کی دیرپا معاشی ترقی کے اہم عناصر ہیں۔ مختلف دہائیوں میں معاشی ترقی کے باوجود پاکستان میں ترقی کا معیار بہت پست نظر آتا ہے اس کی بڑی وجہ معاشی حلقوں میں کم سرمایہ کاری اور آبادی میں بلند شرح ہے ۔

کوئی بھی قوم آج تک مضبوط انسانی ذرائع و تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکی زیادہ آبادی نے غربت کو کم کرنے اور سماجی خدمات کے معیار میں اضافہ کرنے کے مواقع کو ختم کر دیا ہے اور اس نے ماحولیاتی تباہی ،پانی اور خوراک کی قلّت کو بھی جنم دیا ہے 1990کی دہائی کے معاشی اتار چڑھاؤنے معیشتی ترقی کو کم کر دیا تھا جس نے غربت کی پیداوار میں اضافہ بھی کیا ۔ 2007,2006میں ملک نے معاشی طور پر ترقی کی اور ڈالر کی قیمت بھی ایک سطح پر منجمد رہی غربت کے خاتمے کے لئے پاکستان کی شرح افزائش کو اگلے 5یا7سالوں تک 6.7فیصد تک لے جانا نہایت اہم ہے صرف ترقی کے مواقع ہی اہم نہیں ہیں، بلکہ ان کے معیار کو بھی بہتر بنانا بہت ضروری ہے۔ تقریباً60 سالوں میں پاکستان کی معیشت 5.1فیصد سالانہ کے حساب سے 10گنا زیادہ ترقی کر چکی ہے انسانی ترقی کے جدول کے ذریعے سماجی ترقی کے اقدامات اتنے متاثر کن نہیں ہیں، کیونکہ اس میں ہر سال 1.7فیصد اضافہ ہوتا ہے، لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ 2005ء میں غربت میں 4.2فیصد کی شرح تک کمی ہوئی اس کے علاوہ دوسرے سماجی حلقوں میں جیسے تعلیمی میدان میں پرائمری انرولمنٹ ، مڈل اور میٹرک کی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں عمدہ نکاس تک رسائی صاف پینے کے پانی کی فراہمی،بجلی اور گیس جیسے شعبہ جات میں بھی ترقی کی ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان ترقیاتی عوامل کو ابھی بہت زیادہ وسائل کی ضرورت ہے، لیکن اس کے لئے مستقل اور پائیدار لائحہ عمل ہونا بہت ضروری ہے ۔5 سالہ دورانیہ حکومت کے بعد پالیسیاں جوں کی توں رہ جاتی ہیں اور وطنِ عزیز کا ایک بہت بڑا سرمایہ خراب ہوجانے پر پاکستان کے قرضوں میں اضافہ کر کے تمام انسانوں کو مزید غریب کر دیتا ہے جب ہم طویل المیعاد اور وسیع سماجی و معاشی پالیسیوں کو اس رنگ میں تشکیل دیں گے جو معاشرے کی ترقی کو یقینی بنانے کی دلیل پیش کرتی ہیں ،جس سے صنعتی پیداوار اور تجارتی کاروبار میں ترقی پیدا ہو تو وہ دن دور نہیں، جب کامیابیاں اور کامرانیاں پاکستان کے ہر فرد کا مقدر بن جائیں گی۔ یہ تمام پالیسیاں سماجی حلقے میں حکومت کی طرف سے کئے جانے والے تمام امور کی عکاسی کرتی ہیں پاکستانی معیشت ہمیشہ سے ملکی تحفظ جیسے مسائل کا شکار رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ہاکستان کی پیدائش کے بعد سے بنایا جانے والا ہر 5سالہ منصوبہ جو معاشرتی ترقی کے حوالے سے بنایا گیا خصوصاً تعلیم کے لئے ہمیشہ کم مالی وسائل کی وجہ سے کبھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پایا۔

انسانی ترقی کے بنیادی معیار کو جانچنے کے لئے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے ایک جدول کا ایک سلسلہ ترتیب دیا ہے، جس میں انسانی ترقی کے جدول ، انسانی افلاس کے جدول ، ترقی برائے صنعتی معاملات کے جدول ،3حلقوں میں انسانی ترقی کا جائزہ لیتے ہیں طویل عمری ، علم،مناسب تربیت یافتہ زندگی، اس لحاظ سے پاکستان 112ویں نمبر پر آتا ہے، جس کا مطلب ہے 116ممالک حقیقی آمدنی میں پاکستان سے بہتر ہیں۔ انسانی افلاس کے جدول کے مطابق پاکستان کا نمبر 65واں ہے۔ HUMAN DEVELOPMENT INDEXکی شرح کے مطابق 39.2فیصد ہے، جس کا مطلب ہے کہ آبادی کا 39.2فیصد حصّہ بنیادی ضروریات زندگی و تعلیم سے محروم ہے جو بہتر معاشرتی زندگی گزارنے کے لئے بہت اہم تصوّر کئے جاتے ہیں۔اگر حکومت دیرینہ اور پائیدار ترقی کی خواہاں ہے تو اسے سماجی ترقی کے حصول کے لئے اور غربت کے خاتمے کے لئے زیادہ سے زیادہ سرمایہ خرچ کرنے کی ضرورت ہوگی، کیونکہ سماجی اور معاشی ترقی پر ملک کی مجموعی ترقی کا انحصار ہوتا ہے، لیکن صرف سماجی حلقوں میں زیادہ سرمایہ کاری اور غربت کا خاتمہ ہی واحد حل نہیں ہے، بلکہ اثر انگیزی کو بڑھانے کے لئے رقوم کی نگرانی اور بہتر استعمال و ترسیل کی اشّد ضرورت ہے۔

ملک کو انسانی، تکنیکی اور انتظامی افرادی قوّت کی شدید قلّت کا سامنا ہے امیر اور غریب کی آمدن میں بہت زیادہ فرق نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے حکومت کو اب بھی مضبوط معاشی ترقی کے لئے اور لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے لئے بہت سی رکاوٹوں کا سامنا ہے ۔اگر برسراقتدار حکومت پاکستان کی حقیقی ترقی کی خواہاں ہے تو اسے خود کو قرضوں کے بوجھ اور غربت کے پنجوں سے نکالنا ہوگا اور سماجی ترقی پر اپنی توجّہ بھرپور طریقے سے مرکوز کرنا ہوگی، جس کی معاشرتی اشّد ضرورت ہے تب جا کر عام انسان کی زندگی کے حالات بدل سکتے ہیں۔ اخلاص پالیسیوں کا عمدہ نفاذ، اچھے فیصلے کرنا، بہتر رہنمائی اور مقاصد کا درست تصور پر حلقے میں ترقی کے لئے اہم ترین ہیں۔ معیاری تعلیم ، عمدہ طبی سہولیات ، پینے کے صاف پانی تک رسائی ،اور سماجی حلقوں میں مبتلا سرمایہ کاری کو حکومتی پالیسیوں کا مرکز ہونا چاہئے، تاکہ سماجی و معاشرتی مسائل سے نمٹنے میں آسانی ہو۔

ان تمام اصلاحات کے علاوہ عام شہری کے لئے شہری قوانین سے آگاہی بہت ضروری ہے۔ بے شک یہ تمام اصلاحات تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہیں پچھلے دنوں اسلام آباد کے دورہ کے دوران کوہ مری تک جانے کا اتفاق ہوا تو جگہ جگہ ٹریفک کی بہتر اصلاحات دیکھ کر خوشی ہوئی ہر موڑ پر شہری زندگی بچانے کا پیغام ، دشوار راستوں پر ٹریفک قوانین کے مطابق عوامی شعور کے لئے آگہی ، قانون کی بالا دستی کے بینرز ہر چوک پر قوانین کی جانکاری کے پمفلٹ ، سڑکوں کے درمیان حدود بندی کی لائنیں ، مری جی پی او چوک کا امیج ذہن میں جب بھی آتا ہے تو رش سے بھرپور چوک ذہن میں آجاتا ہے۔ مختلف راستوں کو ون وے بذریعہ لوہے کے نوکیلے دندان سے علیحدہ راستہ ون وے کیا گیا، سکون زدہ ٹریفک اور مال روڈ پر پیدل چل کر کوہ مری کو بھرپور انجوائے کرنے اور ہلڑ بازی سے پرہیز کے بینرز یہ تمام انتظامات شہریوں کے لئے کئے گئے تھے، تاکہ فیملی والے حضرات حقیقی طورپر مری کی چھٹیوں کا مزہ لے سکیں، دن رات ڈیوٹی پر مامور ٹریفک کے جوان بے شک ایک عمدہ اصلاحات کی زندہ نوید دیتی ہیں ان تمام اصلاحات کا سہرا شعیب خرم جانباز سی ٹی او راولپنڈی کے سر ہے دن رات کی محنت سے عام شہری کو شعور دینا کہ بہتر ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی زندگی کو اپنے لئے زندہ رکھا جا سکے زندگی کا حصول دنیا میں ایک ہی مرتبہ ممکن ہے۔ اس کے برعکس لاہور میں وارڈن حضرات بدمعاشی کی مثال بنے ہوئے ہیں اور جس کا واقعہ اچھرہ میں ان کی بدمعاشی بھی کسی کو آج تک نہیں بھولی ان کی بہتر طریقے سے تربیت کرنے کے بعد ہی ان کو فیلڈ میں سروس کے لئے بھیجا جانا چاہیے ،لیکن اس کی مثال لاہور میں نظر نہیں آتی۔ زائرین اسلام آباد اور مری کے لئے ٹریفک پلان ترتیب دینا اور مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جا کر ٹریفک قوانین پر سیمینار منعقد کروا کر عام شہری کی بہتر خدمت کرنا بے شک پولیس کے فرائض ہیں، لیکن تمام شہریوں کا بھی فرض ہے کہ ان کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور قانون سے بالاتر ہونے کا ہر گز ثبوت نہ دیں ،جن لوگوں نے ثبوت دیا ان کے چالان کرنے پر حکومت پاکستان کو بہت بڑا ریونیو راولپنڈی اسلام آباد سے اکٹھا ہوا ہے ،اگر اس طرح دوسری پولیس بھی لوگوں کے قانون توڑنے پر چالان بھر پور کریں تو نہ صرف حکومتِ پاکستان کو ریونیو مل سکے گا، بلکہ قانون سے عام انسان افراط زر زدہ معاشرے سے ڈرنے لگے گا اور بے شک یہی راز ہے معاشرتی بہتر زندگی پیدا کرنے کا۔ *

AIOU Solved Assignment 2 Code 1345 Spring 2021

ANS 04

ای کامرس وقت کی اہم  ضرورت ہے اور ای کامرس کی تعلیم وتربیت اس سے بھی زیادہ ضروری ہے ، ای کامرس میں جانے سے پہلے بنیادی علم اور تمام ٹولز کا سیکھنا لازمی ہے اس کے بغیر ایسے ہے کہ جیسے کوئی دریا میں اترنے کا سوچ رہا ہو اور اس کو تیرنا نہ آتا ہو – ای کامرس اور ورہچوئل ایجوکیشن اور اس کی عملی تربیت دینے کی یوں تو پاکستان میں بہت ساری کمپنیاں اور گروپ  ہیں۔۔  لیکن ” انیبلرز ” کو ایک خاص مقام حاصل ہو چکا  ہے- یہ ای کامرس سیکھنے اور اس شعبہ میں کامیابی حاصل کرنے کا ایک اچھا پلیٹ فارم ہے – انیبلرز نے بہت کم عرصے  پاکستان میں زیادہ کامیابی حاصل کی ہے اس سے جڑے ہوئے ٹرینی ٹریننگ کے دوران ہی ای ٹریڈنگ کرکے ماہانہ معقول آمدن حاصل کررہے ہیں – جدید دور میں خاص طور پر موجودہ وبائی حالات میں آن لائن کاروبار یعنی ای کامرس یا ای ٹریڈنگ کی اہمیت بڑھ چکی ہے اس فیلڈ میں آنے والے مالی اور کاروباری لحاظ سے مستحکم پوزیشن میں آچکے ہیں -ایمزاون یا علی بابا کی مثال دنیا بھر کے نوجوانوں اور خاص و عام کے سامنے ہے کہ ایک دو دہاہیوں میں دونوں دنیا کی بالترتیب بڑی کمپنیاں بن چکی ہیں-  اور پاکستان میں “دراز ڈاٹ کام” کو کون نہیں جانتا – انیبلرز واحد کمپنی ہے جو کہ ایمیزون سمیت سب آن لائن کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ نیٹ ورکنگ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیلڈ میں آنے والے اب  انیبلرز کو ترجیح دیتے ہیں- انیبلرز پاکستان بھر میں  خاص طور پر لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں کاروباری افراد کو عالمی سطح پر متعارف اور ان کی معاونت کرنے کے قابل بنا رہا ہے – مقامی کاروباری اداروں کے کام کرنے کے طریقے کو مستحکم بنانے کے لیے اچھے وژن کے مطابق انیبلرز پاکستان میں اپنی  پروڈکٹ بیچنے والوں کی معیشت کو آگے بڑھا رہا ہے- اور ای کامرس کو عالمی سطح پر وسعت دینے کے لئے مستقل طور پر کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں  پاکستان کے تمام بڑے شہروں جیسے لاہور ، کراچی ، اسلام آباد ، فیصل آباد ، گوجرانوالہ ، سیالکوٹ ، ملتان میں معلوماتی سیمینار کا انعقاد کیاجا رہا ہے اور  پروڈکٹ ڈسپلے کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے- اسی طرح اس کے خصوصی تربیتی سلسلے کے حوالے سے لاہور، ملتان میں بھی اہم سیشن اور میٹ اپ پروگرام ہوئے ہیں ،ان سے  زبردست ٹرن آؤٹ حاصل ہوا  ہے- اس طرح کے  سیمینار میں بزنس انڈسٹری کے سینکڑوں نمائندوں نے شرکت کی جن کا ریسپانس حوصلہ افزاء رہا۔۔ ای کامرس کے لئے لاہور ایک اہم مارکیٹ بن چکاہے۔ لاہور اور پورے پنجاب  میں ایمیزون پر فروخت کنندگان کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے ۔۔ اب تک پورے پاکستان میں کیے  گئے سیمینار اور میٹ اپ  کے رزلٹ شاندار آئے ہیں -انیبلرز نے کامیابی سے پورے  پاکستان کے بہت سے شہروں میں خصوصی کاروباری تربیتی سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس میں اس بات پر بھی زور دیا جاتا ہے کہ  پاکستان سے ایمیزون بزنس کیسے قائم کیا جاسکے اور  مقامی فروخت کنندگان کو ٹریننگ پروگرام کی  اہمیت اور اس کی بے پناہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے۔میں  مدد دی جا سکے۔ انیبلرز نو جوان کاروباری افراد  کو پوری دنیا میں ای کامرس کے لئے اپنا پلیٹ فارم  پیش کرتے  ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں لے جاسکیں۔

انیبلرز پاکستان میں اس وقت اس حوالے سے  بیداری پیدا کرنے اور لوگوں اور مقامی کاروبار کو ان کے کاروبار کو بڑھاوا دینے اور ایمیزون کے ذریعہ وسیع تر سامعین تک پہنچنے کے طریقہ کار کو ظاہر کرکے ان کو بااختیار بنانے کے مشن پر ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکہ ، یورپ ، آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات سے غیر ملکی آمدنی لا کر ہماری معیشت کو بہتر بنانے میں بے پناہ  مدد مل رہی ہے۔انیبلرز نے مقامی فروخت کنندگان کو تبدیلی کے مواقع فراہم کرنے اور بین الاقوامی سطح پر ان کو کامیاب کاروباری بنانے میں اپنا پھرپور کردار نبھا رہا ہے فی الحال 20 لاکھ سے زیادہ فروخت کنندگان اور برآمد کنندگان اپنی بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی پروڈکٹ  فروخت کرنے کے لئے ایمیزون پلیٹ فارم کا استعمال کررہے ہیں۔اس ٹریننگ سیریز کے تحت ، انیبلرز  کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کے تمام فروخت کنندگان کو پوری دنیا میں پروڈکٹ کو  فروخت کرنے کے قابل بنانے کے لیے ٹریننگ کا سب سے جامع پروگرام فراہم کر  رہا ہے ،یہ تربیتی پروگرام بزنس لائف سائیکل کے ہر مرحلے میں مخصوص ہر  ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں-پاکستان سے ای کامرس فروخت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ، انیبلرز کے سی ای او اور  بانی ، ثاقب اظہر نے کہا ، “بطور پاکستانی عالمی کاروبار   کی بات کی جائے تو ہمیں بہت سارے چیلنچیز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ بطور  پاکستانی سب سے بڑی عالمی منڈی  ایمیزون پر فروخت کنندہ بننا ہے لیکن اب یہ سب انیبلرز کی وجہ سے  آسان سا ہوگیا ہے اور یہ  کریڈٹ انیبلرز کو جاتا ہے -انیبلرز  ایک ایسی کمپنی  بن چکی ہے ملتان کے میت اپ میں سر عمر طارق اور شاہ زمان  کا  کہنا تھا کہ ملک کی ابھرتی ہوئی معیشت میں حصہ لینے والے ہماری کمپنی کو پاکستان سے باہر پوری دنیا میں  پروڈکٹ کو بیچنے والے کاروباری حضرات کی مکمل حمایت حاصل ہو رہی ہے اور  ہماری کمپنی کی  کوششوں کو سب سراہتے ہیں- انیبلرز ایک  سیلر ڈیش بورڈ بھی تیار کررہا ہے یہ ایک اور بڑی کامیابی ہے   اس سے پاکستان میں پروڈکٹ  بیچنے والوں کو مختلف عالمی ایمیزون مارکیٹوں میں اپنی مصنوعات کو دنیا بھر کے لاکھوں فعال صارفین تک لے جانے میں مدد ملے گی۔ ہم پشاور اور ملتان  میں بھی  نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں دیکھ رہے ہیں اور ہمارے تربیتی پروگرام کے ذریعے ملک  بھر میں ہزاروں خواتین و حضرات اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے اس ماہر  قابل بن رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ای کامرس کو  متعارف کراتے ہوئے محنتی قابل  تاجر وں کو  ایک انوکھا ڈیش بورڈ پر مبنی سافٹ ویئر ہم  دیں  گے  جس کا نام انیبلرز سیلر ڈیش بورڈ ہے جو کسی بھی پاکستانی کو امیزون پر اپنا سامان فروخت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ آپ کو ایمیزون بیچنے والے کا اکاؤنٹ بنانے کسی کمپنی کو رجسٹر کرنے یا غیر ملکی بینک اکاؤنٹ بنانے کی پریشانی میں پڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی  کیونکہ بطور انیبلرز آپ کے لئے ہم سب کچھ کر رہے ہیں ۔ انیبلرز جنوبی پنجاب میں کاروباری افراد کو عالمی سطح پر جانے کے قابل بنا رہا  ہے ہم نے بہاولپور ، میاں چنوں سے ملتان تک نوجوانوں کو  اس میں شامل کر رہے ہیں  جبکہ ساہیوال اور رحیم یار خان ڈی جی خان  میں بھی انیبلرز اپنے آفس جلد بنا رہا ہے تا کہ پسماندہ علاقے کے بے روزگار مرد و خواتین کو بھی ای کامرس اور مہارت  دے کر ترقی کا سفر شروع کروایا جائے۔   پاکستان سے غربت اور بیروزگار ی  کو ہمیشہ سے ختم کر کے خوش حالی اور ترقی لانا انیبلرز  کا مشن ہے  جس میں ہر لمحے خدا ہماری مدد کر رہا ہے۔

پاکستان کی ترقی  معاشی ترقی اور نوجوانوں کی معاشی عمل میں موثر شمولیت  سے وابستہ ہے۔ معاشی ترقی کا عمل اسی صورت میں آگے بڑھے گا جب نئی نسل کے لیے روائتی طور طریقوں کی بجائے نئے جدید خیالات کے ساتھ معاشی ترقی کی  دوڑ میں شامل ہوگی۔ اس وقت دنیا بھر میں  معاشی ترقی  میں ای کامرس  اہم ہے۔  نئی کاروباری سوچ اور فکر  میں  ای کامرس کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔

دنیا میں تجارت کو فروغ دینے کاروباری ڈھانچہ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اب ایک بڑا مسئلہ ڈیجیٹل بنیاد پر کاروباری ترقی اور مواقع کا بھی ہے۔تجارت میں نئی نئی جہتیں سامنے آرہی ہیں۔90کی دہائی میں ڈاٹ کام عروج پر آگئی تو اس کی بڑی وجہ اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ تجارت کو گلوبل کرنے کے مواقع سامنے آئے۔  پہلی دفعہ ای کامرس نے ملکی معاشی ترقی میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کیں۔اگرچہ اس وقت ناقدین کا خیال تھا کہ انٹر نیٹ پروٹوکول کے زریعے تجارت کرنا ایک خطرناک رجحان ہوگا۔اسی دور میں 1995میں جیف بیزوزنے ایک گیراج میں بیٹھ کر ای کامرس کی بنیاد پر اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی جس کانام ایمازون تھا۔اس تجربہ کے بعد اور بھی بہت سے لوگوں نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔آج کے دور میں اس طرح کے ای کامرس کے تجربات نے اب پوری دنیا میں ای کامرس کو دنیا کی سب سے بڑی صنعت بنادیا ہے۔

پاکستان میں بھی زمین ڈاٹ کام، دراز ڈاٹ کام، پاک ویلز، جیسے کئی ادارے چند افراد کی مدد سے اربوں روپے کے نہ صرف کاروبار میں مصروف ہیں بلکہ نئے روزگار بھی پیدا کررہے ہیں۔اس لیے انٹرنیٹ سمیت دیگر نئے رجحانات سے ایک نئی کاروباری دنیا سامنے آئی ہے اور پاکستان بھی اس میں آگے بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔پچھلے ایک برس میں پاکستان میں عورتوں اور نئی نسل نے آن لائن شاپنگ سے متعارف کروایا ہے۔ پنجاب کے بڑے شہر فیصل آباد، سیالکوٹ کی بڑی صنعتیں بھی ای کامرس کی بنیاد پر اپنے کاموں کو فروغ دے رہی ہیں۔نوجوان خود چھوٹے چھوٹے کام کی بنیاد پر اپنا روزگار یا کسی کے روزگار سے منسلک ہوکر اس نئی کاروباری جہت کا حصہ بن رہے ہیں۔

نوجوان طبقہ بنیادی طور پر روزگار کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اسے یقینی طور پر آگے بڑھنے کے لیے معاشی مواقع کی تلاش ہوتی ہے۔ بالخصوص

جاب کی تلاش میں نوجوان روائتی انداز اختیار کرتے ہیں۔جبکہ رسمی نوکریاں کم ہوتی جارہی ہیں اور اس کے مقابلے میں غیر رسمی انداز میں معاشی ترقی کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔پاکستان میں آن لائن شاپنگ کے رجحان میں  تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے اور لوگ اب گھر بیٹھ کر ہی اپنی مرضی کے مطابق اشیا کی خریداری کررہے ہیں۔خاص طور پر وہ طبقہ جو ای کامرس یا ڈیجیٹل معاملات میں  رسائی رکھتا ہے وہ اس عمل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھارہا ہے۔ صرف اشیا کی خریداری ہی نہیں بلکہ کئی نوجوان خود آگے بڑھ کر ای کامرس کو بنیاد بنا کر اپنا چھوٹا موٹا یا بڑا کاروبار کرکے اپنے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کررہے ہیں۔

ای کامر س کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے  ریاست، حکومت او رہم اہم ادارے کام کررہے ہیں۔ انفرادی سطح پر کچھ نوجوان بھی اس اہم کام کے پھیلاؤ میں  ہاتھ بٹا رہے ہیں۔  ان میں ایک بڑا نام ثاقب اظہر کا  ہے جو ایک معروف ای کامرس کی ترقی سے جڑے ادارے کے سربراہ ہیں۔ ان کا بنیادی کام ملک میں ای کامرس کو زیادہ سے زیادہ آگاہی دینا ہے تاکہ نئی نسل کے لوگ اپنے کاروبار کو ای کامرس کے ساتھ جوڑ سکیں۔ان کے بقول اس ملک سے اگر واقعی غربت کا خاتمہ کرنا ہے تو اس کی ایک بڑی بنیاد ای کامرس ہی بن سکتی ہے۔کیونکہ یہ ہی وہ زریعہ ہے کہ جس کی مدد سے آپ گھر بیٹھ کر ہی اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ثاقب اظہر نہ صرف  ای کامرس کی آگاہی دیتے ہیں بلکہ اس کی مدد سے روزگار کمانے کے ہنر  بھی سکھاتے ہیں۔ یعنی وہ تربیت کا اہتمام بھی کررہے ہیں۔

اصل میں سرمایہ دار او رہنر مند افراد کے درمیان ایک مضبوط تعلق جوڑنے کی ضرورت ہے او ریہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم اپنی سطح پر معاشی ترقی کا ماحول پیدا کریں اور لوگوں میں جدید طریقوں سے معاشی ترقی کے جال کو پھیلانا ہوگا۔ثاقب اظہر  کی کتاب  بھی اس موضوع کا احاطہ کرتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان جب چین اور دیگر ممالک کی مثالیں دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ملک سے خط غربت کو کم کیا ہے تو اس پر عملدرآمد کے لیے بھی ہمیں ای کامرس کو بنیاد بنانا ہوگا۔یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب یہ ہماری نہ صرف پالیسی سازی میں سیاسی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے بلکہ یہ عملی طور پر ہر فرد یا ادارے کو واضح طور پر نظر بھی آنا چاہیے۔ایسے میں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شعبہ میں کام کرنے والے لوگوں کی سرپرستی کریں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں ای کامرس کے پھیلاؤ میں کیا ایسے اقدامات کرنے چاہیے جو واقعی ہمارے لیے معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرسکیں۔ اول ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ملک کو گلوبل ای کامرس کا حصہ بننا ہے اور یہ ہی ہماری معاشی ترقی کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے اور اس کے لیے  ادائیگیوں کے جدید نظام کو متعارف کروانا ہوگا۔ دوئم انٹرنیٹ فورجی جیسی سہولیات کو عام کرنا ہوگا اور لوگوں کی تربیت سمیت اس پر ا ن کی رسائی کو عام کرنا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس معاشی ترقی کا حصہ بن سکیں۔ سوئم ہمیں اپنے تعلیمی نصاب میں مینجمنٹ، مارکیٹنگ، اشتہارات، سیلز کے ساتھ ساتھ ای کامرس کو بھی بنیاد بنانا ہوگا اور نئی نسل میں آگہی پیدا کرنا ہوگی۔چہارم ہمیں اپنی منڈی یا کاروباری مراکز کو ای کامرس کے  نظام میں لانا ہوگا۔اور ای کامرس کی تعلیم یا شرح خواندگی کو عام کرنا ہوگا۔خاص طور پر اگرہم نے واقعی سی پیک سے زیادہ سے زیادہ فادہ اٹھانا ہے تو ہمیں ای کامرس کی بنیاد پر معاشی ترقی کا ایک بڑا روڈ میپ درکارہے جو ہماری معاشی ترقی میں نئی جہتوں کو پیدا کرسکے گا۔

AIOU Solved Assignment Code 1345 Autumn 2021

ANS 05

ا

1.     ماہر، پالیسی

2.     کرنسی، اہم جگہ

3.     خرید، فروخت

4.     بہتر

5.     ایک

6.     مال

7.     کاروبار

8.     قابض

9.     معاہدہ

10.                        اخراجی

ب

1.                 ص

2.                 غ

3.                 ص

4.                 ص

5.                 غ

6.                 ص

7.                 غ

8.                 غ

9.                 غ

10.            ص

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *